اسلام آباد میں طلاق اور خلع کے کیسز میں خطرناک اضافہ

image

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں طلاق، خلع اور نان نفقہ کے مقدمات میں تشویشناک حد تک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں فیملی کورٹس میں روزانہ 300 سے زائد نئے کیسز دائر کیے جا رہے ہیں۔ عدالتی ذرائع کے مطابق رواں سال کے ابتدائی ساڑھے چار ماہ کے دوران مقدمات کی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جب کہ ماہرین نے بڑھتی بے روزگاری، معاشی دباؤ اور منشیات کے استعمال کو اس رجحان کی بڑی وجوہات قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خلع اور طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس نے سماجی اور خاندانی نظام کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ فیملی کورٹس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر خلع اور نان نفقہ کے 300 سے زائد نئے مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ عدالتی اوقات کے ہر گھنٹے میں اوسطاً 38 خلع اور نان نفقہ کے کیسز درج ہو رہے ہیں۔ یکم جنوری 2026 سے اب تک محض ساڑھے چار ماہ کے دوران کیسز کی مجموعی تعداد 45 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ہر ماہ اوسطاً 9 ہزار سے زائد نئے مقدمات رجسٹرڈ کیے جا رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں فیملی تنازعات میں سال بہ سال نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سال 2023 میں 85 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے، 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 91 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ سال 2025 میں ایک لاکھ سے زائد مقدمات سامنے آئے۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ خلع اور نان نفقہ کے زیادہ تر مقدمات ان جوڑوں کی جانب سے دائر کیے جا رہے ہیں جنہوں نے پسند کی شادی کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں روزانہ 30 سے زائد کورٹ میرجز بھی ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران 38 ایسے کیسز بھی سامنے آئے جہاں شادی کے صرف ایک سے تین ماہ کے اندر ہی رشتہ خلع پر ختم ہو گیا۔

فیملی مقدمات کی پیروی کرنے والے قانونی ماہرین اور وکلاء نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور منشیات کے بڑھتے استعمال نے خاندانی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔

وکلاء کے مطابق معاشی اور ذہنی دباؤ کے باعث معمولی نوعیت کے گھریلو تنازعات بھی اب عدالتوں تک پہنچ رہے ہیں، جس کی وجہ سے فیملی کورٹس پر مقدمات کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US