حکومت نے خطے کی صورتحال اور مقامی مارکیٹ میں ممکنہ چینی قلت کے خدشے کے پیش نظر چینی برآمد کرنے کی سمری مؤخر کر دی ہے۔
اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے شوگر ملز کی جانب سے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی درخواست پر غور کیا تاہم مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے اعداد و شمار اور شوگر ملوں میں گنے کی دستیابی کی صورتحال کے باعث آئندہ تین ماہ میں چینی کے بحران کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چینی سے متعلق معاملات وزارت صنعت و پیداوار کے بجائے وزارت قومی غذائی تحفظ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں اس وقت 78 لاکھ ٹن چینی موجود ہے تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برآمد کی اجازت دینے سے مقامی مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض ملز نے درآمد شدہ چینی بھی اپنے اسٹاک میں شامل کر رکھی ہے جبکہ ماضی میں بھی اضافی اسٹاک ظاہر کر کے برآمد کی اجازت لینے کے بعد مقامی قلت پیدا ہونے کی صورتحال سامنے آ چکی ہے۔