کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت مصطفیٰ عامر قتل کیس اس وقت ڈرامائی رخ اختیار کر گیا جب مرکزی ملزم ارمغان نے سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں شدید شور شرابہ شروع کر دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت میں صحافی پر حملے کے مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم اچانک آپے سے باہر ہو گیا اور جج کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی والدہ اور وکیل پر سنگین الزامات عائد کیے۔
ملزم کا کہنا تھا کہ اس کے قریبی افراد اور قانونی ٹیم اسے ذہنی مریض قرار دلوانے کی سازش کر رہے ہیں تاکہ اس کی جائیداد اور پیسوں پر قبضہ کیا جا سکے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ مکمل طور پر ذہنی طور پر صحت مند ہے اور اسے کسی وکیل کی ضرورت نہیں وہ اپنا کیس خود لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس غیر معمولی صورتحال پر عدالت نے آئندہ سماعت پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات سے متعلق دلائل طلب کر لیے جبکہ استغاثہ کے گواہان کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ کیس کی مزید سماعت یکم جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔