وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں احساسِ محرومی کا بیانیہ حقائق کے برعکس ایک مخصوص انتہاپسند ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام منعقدہ ورکشاپ میں ملک بھر کی دو سو سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈینز اور سینئر پروفیسرز سے خصوصی نشست کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال، ترقیاتی اقدامات اور سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ یکجہتی کونسل (بی وائی سی) کے درمیان گٹھ جوڑ بے نقاب ہوچکا ہے اور بعض عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان میں تشدد، سوشل میڈیا مہمات اور پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کے خلاف منظم انٹیلی جنس جنگ جاری ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو افغانستان اور بھارت کی جانب سے سہولت کاری حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق یہ عناصر افغان اور بھارتی پاسپورٹس پر نقل و حرکت کرتے ہیں اور انہیں بیرونی انٹیلی جنس نیٹ ورکس کی حمایت حاصل ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے پروپیگنڈے اور زمینی حقائق میں واضح فرق موجود ہے، جبکہ حکومت صوبے میں ترقی، اصلاحات اور استحکام کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں اور دونوں کی ترقی و استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔