چین کی خلائی پروگرام میں اہم پیش رفت، "شینزو 23" مشن کامیابی کے ساتھ لانچ

image

چین نے 2030 تک چاند پر انسانوں کو بھیجنے کے اپنے خلائی پروگرام کے سلسلے میں ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے "شینزو 23" مشن کامیابی کے ساتھ لانچ کردیا ہے۔ اس مشن کے تحت تین خلا بازوں کو لانگ مارچ 2 ایف راکٹ کے ذریعے شمال مغربی چین میں واقع جیوکوان (Jiuquan) لانچ سینٹر سے زمین کے مدار میں موجود تیانگونگ (Tiangong) اسپیس اسٹیشن کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔

یہ خلا باز وہاں متعدد سائنسی منصوبوں پر کام کریں گے، تاہم اس مشن کا سب سے اہم اور منفرد تجربہ ایک خلا باز کا خلائی اسٹیشن میں پورا ایک سال گزارنا ہوگا۔ عام طور پر یہاں خلا بازوں کا قیام 6 ماہ کا ہوتا ہے، لیکن اس بار ایک سالہ طویل قیام کا مقصد بغیر کشش ثقل کے ماحول کے انسانی جسم پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینا ہے، تاکہ چاند اور مستقبل میں مریخ کے ممکنہ مشنز کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ فی الحال باقاعدہ طور پر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان تینوں میں سے کون سا خلا باز ایک سال کا عرصہ وہاں گزارے گا۔

چین کے اس خلائی پروگرام کے تحت آلات کی آزمائش کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کے تحت رواں سال 2026 میں کسی وقت "مینگزو" اسپیس کرافٹ کو زمین کے مدار میں آزمائشی پرواز کے لیے بھیجا جائے گا، جو مستقبل میں شینزو اسپیس کرافٹس کی جگہ لے کر چینی خلا بازوں کو چاند پر لے جانے کا فریضہ انجام دے گا۔

چین کا ہدف ہے کہ 2030 سے پہلے چاند کی سطح پر خلا بازوں کو پہنچایا جائے اور 2035 تک وہاں ایک مستقل سائنسی بیس کی تعمیر کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی، چین بین الاقوامی تعاون کے تحت رواں سال کے آخر تک اپنے تیانگونگ خلائی اسٹیشن پر پہلے غیر ملکی خلا باز کو بھی بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کا تعلق پاکستان سے ہوگا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US