اسمارٹ فون صارفین کی ایک بہت عام غلطی ڈیوائس کی اسٹوریج بھرنے اور اس کی کارکردگی کو سست کرنے کا سب سے بڑا سبب بنتی ہے۔ جب کسی بھی اینڈرائیڈ فون کی اسٹوریج 95 فیصد یا اس سے زیادہ بھر جائے تو عارضی فائلز کے لیے جگہ محدود ہونے کی وجہ سے سسٹم اپ ڈیٹس اور بیک گراؤنڈ پراسیس بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
اس مسئلے کی بنیادی وجہ فون میں ایپس کی بھرمار اور ان کی 'کیشے' (caches) فائلز کو باقاعدگی سے کلیئر نہ کرنا ہے۔ بیشتر افراد اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ ان کے فون میں موجود ایپس مسلسل اپ ڈیٹ ہوتی رہتی ہیں، جس کے نتیجے میں پسِ منظر میں بڑی مقدار میں عارضی فائلز اور کیشے ڈیٹا جمع ہوتا رہتا ہے جو بالآخر فون کی اسپیڈ کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔
سوشل میڈیا ایپس جیسے فیس بک، انسٹا گرام اور ٹک ٹاک وغیرہ اس معاملے میں سب سے آگے ہیں کیونکہ وہ اسکرولنگ کے عمل کو ہموار اور تیز رکھنے کے لیے تصاویر اور ویڈیوز کا ڈیٹا پہلے سے لوڈ (پری لوڈ) کرکے بھاری مقدار میں کیشے فائلز محفوظ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ پرانی گیمز اور وہ ایپس جنہیں طویل عرصے سے استعمال نہ کیا گیا ہو، وہ بھی فون میموری کو بلاوجہ گھیرے رکھتی ہیں۔
چونکہ اینڈرائیڈ فونز میں کیشے فائلز کو صاف کرنے کا کوئی خودکار نظام نہیں ہوتا، اس لیے صارفین کو خود فون کی سیٹنگز میں جا کر ایپس کے آپشن کو منتخب کرنا پڑتا ہے، جہاں اسٹوریج مینو میں 'کلیئر کیشے' کے ذریعے اس فالتو ڈیٹا کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق غیر ضروری ایپس اور گیمز کو ڈیلیٹ کرنے اور کیشے کو صاف رکھنے سے فون کی اسٹوریج اور رفتار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔