تمام مسلم ممالک کو ابراہیمی معاہدے کا حصہ بن جانا چاہیے، ڈونلڈ ٹرمپ

image

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت تمام متعلقہ مسلم ممالک کو فوری طور پر 'ابراہیمی معاہدے' کا حصہ بن جانا چاہیے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ یا تو ایک بہترین اور جامع معاہدہ طے پائے گا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، اور دوسری صورت میں پہلے سے زیادہ شدید جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے جسے کوئی بھی فریق نہیں چاہتا۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیے، مصر، اردن اور بحرین کے سربراہانِ مملکت سمیت پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تفصیلی بات چیت کی ہے۔

امریکی صدر کے مطابق، انہوں نے ان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ امریکا کی جانب سے اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں کے بعد یہ ضروری ہونا چاہیے کہ یہ تمام ممالک بیک وقت ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔

ٹرمپ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی اس کا حصہ ہیں، جبکہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے، مصر اور اردن کو بھی اب اس تاریخی معاہدے میں شامل ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور قطر کو فوری طور پر دستخط کرنے چاہئیں کیونکہ ایسا نہ کرنا بری نیت کی علامت سمجھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم رہنماؤں سے گفتگو کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ امریکی معاہدہ طے پاتے ہی اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل کرنے کو ایک اعزاز سمجھیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی نمائندے کو ہدایت جاری کردی ہے کہ وہ ان ممالک کو تاریخی ابراہیمی معاہدے میں شامل کرنے کے عمل کا فوری آغاز کریں، جس کے تحت سال 2020 میں ان کے پہلے دورِ صدارت کے دوران امارات اور بحرین جیسے ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

امریکا کے ساتھ معاہدہ ہوا تو جوہری معاملے پر 60 روز میں مذاکرات ہوں گے، ایران

دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ ایک فریم ورک پر پہنچ گئے ہیں تاہم کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ بالکل قریب ہے۔

اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران مذاکرات کر رہا ہے تاہم ایران اس وقت جوہری معاملے پر بات چیت نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وفد بھیجنے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایم اویو کو حتمی شکل دی گئی تو جوہری معاملے سمیت مفاہمتی یادداشت کی کچھ تفصیلات اور دیگر موضوعات پر بھی 60 دن میں مذاکرات ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ 14 نکاتی ایم او یو جنگ کے خاتمے اور امریکی بحری ناکا بندی ختم کرنے پر مرکوز ہے، بدلے میں ایران ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔ لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ممکنہ معاہدے کا حصہ ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ سفارتی پیشرفت پاکستان کی ثالثی میں ہفتوں سے جاری مذاکرات اور رابطوں کا نتیجہ ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US