سزائے موت پر عملدرآمد لیکن کرسٹا پائیک دو جان لیوا انجیکشن لگنے کے باوجود زندہ: ’دل کی دھڑکن برقرار ہے‘

پائیک کی عمر اب 50 سال ہے تاہم جب وہ 18 برس کی تھیں تب انھوں نے اپنے اُس وقت کے بوائے فرینڈ ٹیڈرل شپ کے ساتھ مل کر 19 سالہ کولین سلمر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔
Tennesse Department of Corrections inmate photo of Christa Pike, Tennessee's only woman on death row.
Tennesse Department of Corrections
کرسٹا پائیک

امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی کرسٹا پائیک کے وکیل کے مطابق انھیں اس وقت ہسپتال منتقل کرنا پڑا جب دو جان لیوا انجیکشنز دیے جانے کے باوجود ان کا دل دھڑکتا رہا۔

ان کے وکیل کا دعویٰ ہے اس کے بعد ان کی قانونی ٹیم نے سزائے موت پر عملدرآمد کے دوران ہی ہنگامی درخواست دائر کرتے ہوئے کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ’مس پائیک بے ہوش ہو چکی ہیں، لیکن ان کی دل کی دھڑکن برقرار ہے اور ان کے خراٹوں کی آواز سنی جا سکتی ہے۔‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے ایک وکیل نے بتایا کہ 50 سالہ پائیک کو ہسپتال میں ’جان بچانے والی طبی خدمات‘ فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ انھیں پینٹوباربیٹل کی دو سرنجیں دی جا چکی تھیں۔

کرسٹا پائیک کو 1996 میں 19 سالہ کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اگر اس سزا پر عملدرآمد ہو جاتا تو وہ 200 سال سے زیادہ عرصے میں ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔

1970 کی دہائی کے بعد سے امریکہ میں صرف 18 خواتین کو سزائے موت دی گئی ہے، جبکہ مردوں کی تعداد 1,663 ہے۔

سزائے موت پر عمل درآمد کی یہ کوشش بدھ کی رات مقامی وقت کے مطابق تقریباً 8 بجے ریوربینڈ میکسی مم سکیورٹی انسٹی ٹیوشن، نیش وِل میں کی گئی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پائیک کو پینٹوباربیٹل کی دو خوراکیں دی گئیں اور گواہوں کے کمرے کے سامنے موجود پردہ دو مرتبہ بند کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کسی مرحلے پر میڈیا نمائندوں کو بھی کمرہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔

A portrait of Colleen Slemmer, taken in what looks like a photography studio with a backdrop. She is wearing a striped orange and white sweatshirt, gold drop earrings and is smiling at the camera. She has auburn hair and a fringe.
Family handout
1995 میں طالبہ کولین سلمر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا

پائیک کی قانونی ٹیم نے ٹینیسین اخبار کو دیے گئے بیان میں کہا ’آج رات ریاست ٹینیسی ایک مرتبہ پھر قانونی طریقے سے سزائے موت پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ہمیں اپنی بات درست ثابت ہونے پر کوئی خوشی نہیں، لیکن مس پائیک کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات درست ثابت ہوئے ’رگ تک رسائی میں مشکلات، خراب ہو جانے والی رگیں، غیر معیاری پینٹوباربیٹل، اور جب معاملات بگڑ جائیں تو ہنگامی طبی سہولتوں کی عدم دستیابی، یہ سب ایک ایسے طریقہ کار کے تحت ہوا جو اب بھی رازداری میں رکھا جاتا ہے۔‘

پائیک کے وکلاء نے سزائے موت روکنے اور طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہنگامی درخواست دائر کی، کیونکہ بظاہر جان لیوا انجیکشن کا عمل ناکام ہو گیا تھا۔

ڈسٹرکٹ جج کلفٹن ایل کارکر نے ایک حکم نامے میں کہا کہ ’طبی عملے نے درخواست کے مطابق طبی امداد فراہم کرنا شروع کر دی ہے۔‘

دوسری جانب ٹینیسی محکمہ اصلاحات نے کہا ہے کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد کے دوران کیے گئے تمام اقدامات کا دفاع کرتا ہے۔

محکمے کی ترجمان ڈورِنڈا کارٹر نے ٹینیسین اخبار کو بتایا ’ٹینیسی محکمہ اصلاحات نے اٹارنی جنرل کے دفتر سے منظور شدہ قانونی اور طے شدہ طریقۂ کار کے ہر مرحلے پر عمل کیا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اس طریقہ کار میں استعمال ہونے والا جان لیوا کیمیکل مسلسل مؤثر ثابت ہوتا رہا ہے، اور اس میں اس بات کی اجازت نہیں کہ آج رات کیے گئے اقدامات کے علاوہ کوئی اضافی طریقہ اختیار کیا جائے۔ کرسٹا پائیک کو ایک بیرونی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

دریں اثنا، ایموری یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر جوئل زیووٹ، جنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پائیک کی قانونی ٹیم کے طبی ماہر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کا کہنا ہے کہ غالباً پائیک کے خون میں پینٹوباربیٹل کی اتنی مقدار نہیں پہنچ سکی جو سزائے موت کے دوران سانس رک جانے اور قلبی نظام کی ناکامی کا سبب بن سکے۔‘

Christa Pike as a toddler. She has brown, short curly hair and is wearing a red jumper. The background appears to show part of a white vehicle
Christa Pike
کرسٹا پائیک کو بچپن میں والدین کی عدم توجہی اور بدسلوکی کا سامنا رہا

کرسٹا پائیک سے آخری بار سزائے موت کے قیدیوں کے سیل سے ایشلی سیلرز کو پیغام بھیجا جو ان کی دوست ہیں۔

پائیک نے سیلرز کو بتایا تھا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے اہلِ خانہ یا قریبی لوگ بدھ کو ان کی سزائے موت کے وقت موجود ہوں۔ ایشلی سیلرز کہتی ہیں کہ ’وہ نہیں چاہتی کہ ہم یہ سب دیکھیں۔‘

سیلرز کے لیے اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ وہ عورت، جسے وہ ہمیشہ ایک مہربان اور دوسروں کا خیال رکھنے والی شخصیت کے طور پر جانتی رہی ہیں، 31 سال پہلے ایک سنگین جرم میں ملوث ہو سکتی ہیں۔

پائیک کی عمر اب 50 سال ہے تاہم جب وہ 18 برس کی تھیں تب انھوں نے اپنے اُس وقت کے بوائے فرینڈ ٹیڈرل شپ کے ساتھ مل کر 19 سالہ کولین سلمر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

دونوں کی ملاقات مسائل کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے لیے قائم ایک تربیتی کیمپ میں ہوئی تھی۔

1995 میں امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر ناکس وِل میں جب کولین کی لاش ملی تو ان کے سینے پر پانچ کونوں والا ستارہ (پینٹاگرام) تھا جو شیطانی رسومات کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے اور یوں یہ قتل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔

پائیک نے کولین پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اس کی توہین کرتی تھیں اور ان کے بوائے فرینڈ کو ان سے چھیننے کی کوشش کر رہی تھیں۔

بعد میں کیمپ کے دو دیگر رہائشیوں نے گواہی دی کہ پائیک نے قتل سے پہلے اور بعد میں اس جرم پر فخر کا اظہار کیا تھا اور انھیں کولین کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا بھی دکھایا تھا۔

ایک سال بعد پائیک کو سزائے موت سنائی گئی، جبکہ اُس وقت 17 سالہ شپ کو عمر قید کی سزا دی گئی، جس کے تحت انھیں مستقبل میں پیرول پر رہائی بھی مل سکتی ہے۔

اس سزا کے خلاف برسوں تک اپیلیں دائر کی جاتی رہیں۔ تاہم تمام ناکام رہیں اور یوں بلآخر پائیک کی سزائے موت کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

کولین کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ پائیک کو دی گئی سزائے موت پر ہر صورت عمل درآمد ہو تاکہ ان کی بیٹی بھی سکون پا سکے۔

Christa Pike pictured as a teenager. She has curly brown hair and is wearing a pink top and jeans. She is looking down at something in her hands - the room is dark.
Christa Pike
عدالتی دستاویزات کے مطابق پائیک نے جنوری 1995 میں کولین سلمر کو قتل کیا تھا۔ اس سے قبل انھوں نے ایک دوست سے کہا تھا کہ اس دن میرا دل بس کسی پر ظلم کرنے کو چاہ رہا تھا

سزا سنائے جانے کے بعد گزرنے والے برسوں میں ان کی قانونی ٹیم نے ان کے بچپن سے متعلق ایسی تفصیلات سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے جن پر، ان کے بقول، جیوری کو کبھی غور کرنے کا موقع نہیں ملا۔

پائیک کے دفاع پر کام کرنے والی اور کارنیل لا سکول میں صنف اور سزائے موت کے موضوع کی ماہر سینڈرا بابکاک کہتی ہیں کہ ’یہ بات حیران کن ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور جنسی تشدد کی تاریخ عدالت میں پیش نہیں کی گئی، حالانکہ اس بارے میں معلومات موجود تھیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ مقدمہ کئی حوالوں سے غیرمعمولی ہے، صرف اس لیے نہیں کہ انھیں جنسی تشدد کے انتہائی سنگین تجربات کا سامنا رہا، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ سب ان کی کم عمری اور ذہنی بیماری کے پس منظر کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔‘

1995 میں پائیک کے وکلا نے فرانزک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ڈیانا میک کوئے کی خدمات حاصل کی تھیں۔

اپنی رپورٹ میں انھوں نے کہا کہ پائیک کو بچپن میں اپنے دونوں والدین کی جانب سے شدید عدم توجہی کا سامنا رہا۔

رپورٹ کے مطابق پائیک اپنی والدہ کے متعدد شوہروں اور بوائے فرینڈز کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی استحصال کا نشانہ بنیں۔ ان کے ساتھ11 سال کی عمر سے 17 سال کی عمر تک متعدد بار ریپ کیا گیا۔

بعد میں یہ بھی سامنے آیا کہ بچپن کے ابتدائی برسوں میں ان کی دادی کے بوائے فرینڈ نے بھی بارہا ان کا ریپ کیا۔ میک کوئے کے مطابق پائیک کی والدہ نے ان الزامات پر یقین نہیں کیا تھا۔

تاہم پائیک کے مقدمے کے وکیل نے نہ تو ڈاکٹر میک کوئے کو بطور گواہ پیش کیا اور نہ ہی ان متعدد گواہوں کو عدالت میں بلایا جن کی سفارش انھوں نے کی تھی۔

یہ تفصیلات ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد مقدمے کے جائزے کے دوران ہونے والی عدالتی سماعت میں سامنے آئیں، جب نئے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ پائیک کو مؤثر قانونی نمائندگی نہیں ملی تھی۔ تاہم جج نے یہ دعویٰ مسترد کر دیا۔

2021 کے دوران جیل میں پائیک میں بائی پولر ڈس آرڈر کی تشخیص ہوئی، جس کے بعد سے وہ علاج اور ادویات لے رہی ہیں۔

بعد ازاں پائیک کے دفاع کے لیے کام کرنے والی ایک اور فرانزک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر بیتھنی برانڈ نے 2023 میں ان کے مقدمے کا جائزہ لیا اور کہا کہ یہ ایک غیرمعمولی کیس ہے کیونکہ پائیک کو ان بہت سے لوگوں کی جانب سے زیادتی کا سامنا کرنا پڑا جن کی ذمہ داری ان کی حفاظت کرنا تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’ان کا بچپن جسمانی، جنسی اور ذہنی تشدد سے بھرا ہوا تھا۔ سکول جانے کی عمر سے پہلے ہی کئی مردوں نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔‘

ڈاکٹر بیتھنی برانڈ کے مطابق بائی پولر ڈس آرڈر کے باعث پائیک کو جذباتی کیفیت کے شدید دورے پڑتے تھے جن کا علاج نہیں ہوا جبکہ وہ پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کا بھی علاج نہیں کرا سکیں۔

انھوں نے موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ’ان دونوں عوامل نے اس بات پر گہرا اثر ڈالا کہ وہ اس لڑکی سے خود کو کس حد تک خطرے میں محسوس کرتی تھیں، جسے بعد میں انھوں نے قتل کیا، اور اس صورتحال میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔‘

سینڈرا بابکاک کہتی ہیں کہ ’اگر انھیں سزائے موت دے دی جاتی ہے تو اس سے یہ پیغام ملے گا کہ اس ملک میں سزائے موت کا نظام اپنے مقصد پر پورا نہیں اترتا۔ یہ بدترین جرائم کرنے والوں کے لیے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جنھیں کمزور قانونی نمائندگی ملی اور جو سب سے زیادہ متاثر اور کمزور حالات کا شکار رہے ہیں۔‘

’اس کو جان لینے کی قیمت چکانا ہو گی‘

گذشتہ سال ٹینیسی کی سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں حکم دیا تھاکہ پائیک ایسے کوئی غیر معمولی حالات ثابت نہیں کر سکیں جو ان کی سزا کو کم کرنے کا جواز بن سکتے۔

اس فیصلے کے بعد ان کی تمام اپیلیں ختم ہو گئیں اور سزائے موت پر عملدرآمد کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

اس سے قبل ایک وفاقی اپیل عدالت بھی قرار دے چکی تھی کہ مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری نے پائیک کے مشکل بچپن کے بارے میں ان کی والدہ، والد اور خالہ کی گواہی لے لی تھی۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ بائی پولر ڈس آرڈر، پی ٹی ایس ڈی اور دماغی نقصان سے متعلق نئے شواہد بڑی حد تک پہلے سے موجود معلومات کا ہی اعادہ تھے اور ان سے فیصلے میں تبدیلی کا امکان نہیں تھا۔

یہ تنازع بعض حوالوں سے لیزا مونٹگمری کے معروف مقدمے سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں ان کے وکلا نے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ ذہنی بیماری کا شکار تھیں اور بدسلوکی کا سامنا کرنے والی ایک متاثرہ خاتون ہونے کے باعث رحم کی مستحق تھیں۔

تاہم مونٹگمری کیتمام قانونی کوششیں ان کی سزا تبدیل کرانے میں کامیاب نہ ہو سکیں اور انھیں 2021 میں ریاست انڈیانا میں مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔

اس ہفتے ٹینیسی کی سپریم کورٹ نے بھی پائیک کی سزا پر عملدرآمد روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ قانونی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

پائیک نے اپنی سزائے موت کے دن صرف خواتین اہلکاروں پر مشتمل ٹیم کی درخواست کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ مرد اہلکاروں کے ایک گروہ کی جانب سے قابو میں رکھے جانے سے ان کے ماضی کے ذہنی صدمے مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ٹینیسی کی حکومت نے کہا تھا کہ کوشش کی جائے گی کہ خواتین اہلکار ہی پائیک کو اس جیل تک منتقل کریں جہاں سزا پر عملدرآمد ہونا ہے، تاہم اس کی ضمانت نہیں دی گئی۔

کولین کی والدہ مے مارٹینیز، کرسٹا پائیک کو سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتی ہیں۔

انھوں نے 2021 میں ناکس وِل کے ٹی وی چینل ڈبلیو بی آئی آر سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’اس نے جرم کیا ہے۔ میرے خیال میں اسے جان سے مارنے کی قیمت چکانا ہو گی۔‘

اس ہفتے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ آج بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں۔

مارٹینیز نے ڈبلیو بی آئی آر سے یہ بھی کہا تھا کہ پائیک کو مرنے سے پہلے تکلیف کا سامنا کرنا چاہیے۔ ان کے بقول ’مجھے بہت بہتر لگے گاکہ اگر اسے بھی وہی درد محسوس ہو جو کولین نے برداشت کیا تھا۔‘

May Martinez sits with retired Knoxville Police department detective Randy York outside of a Knox County Court Room for a post conviction relief hearing for the killer of Martinez daughter Colleen Slemmer. February 27, 2006
J. Miles Carey/USA TODAY/Imagn Images via Reuters
کولین سلمر کی والدہ مے مارٹینیز، 2006 میں عدالتی سماعت کے موقع پر

انھوں نے مزید کہا کہ’میرا دل ہر روز ٹوٹتا ہے کیونکہ میں اس واقعے کو بار بار یاد کرتی ہوں، بار بار اس سے گزرتی ہوں، اور اب میں مزید ایسا نہیں کر سکتی۔ میں چاہتی ہوں کہ میری موت سے پہلے یہ ہو جائے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب میں کولین یا ان کی موت کے بارے میں نہ سوچتی ہوں، یا یہ نہ سوچتی ہوں کہ ان پر کیا بیتی ہو گی۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ کرسٹا کا معاملہ ختم ہو جائے تاکہ میں اس باب کو بند کر سکوں اور میری بیٹی کو سکون مل سکے، تاکہ وہ آخرکار آرام کر سکے۔‘

متاثرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس کولیشن نے مارٹینیز کو پھانسی دیکھنے کے لیے ٹینیسی جانے میں مدد دینے کی غرض سے فنڈ جمع کیے ہیں۔

تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رابرٹ بریسویل نے کہا کہ یہ سزا پائیک کے ہم عمروں پر مشتمل جیوری نے مقرر کی تھی اور یہی کولین کے خاندان کی خواہش بھی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم خاندان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں کہ 30 ستمبر کو ان کی پھانسی پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔‘

ایشلی سیلرز دو بظاہر متضاد خیالات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ ’ایک یہ کہ کولین کی والدہ کو یہ محسوس کرنے کا حق ہے کہ انصاف ہو چکا ہے اور دوسرا یہ کہ ہر شخص، بشمول ان کی دوست کرسٹا، اصلاح اور نئی شروعات کا ایک موقع پانے کا حق رکھتا ہے۔‘

سیلرز کہتی ہیں کہ ’جب میں ٹی وی پر نظر آنے والی شخصیت یا کولین کے ساتھ پیش آنے والے ہولناک واقعے کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں تو میرے لیے اس کی واحد توجیہ ذہنی صحت، صدمے اور اس بات میں نظر آتی ہے کہ لوگ ایسے لمحات میں معاملات کو کیسے سمجھتے اور ان پر ردعمل دیتے ہیں جب ان کے پاس درکار سہولتیں یا مدد موجود نہ ہو۔‘

ان کے مطابق ’جوانی میں ایسے ہولناک واقعات پیش آتے ہیں، پھر وہ صدمے آپ کے ساتھ رہتے ہیں، ہماری کمیونٹی میں منتقل ہوتے ہیں، اور یوں آپ کسی اور کو نقصان پہنچا بیٹھتے ہیں۔‘

سیلرز کی ملاقات پائیک سے جیل میں ہوئی تھی، جب وہ ڈکیتی کے دوران ہونے والے ایک قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں 25 سال کی سزا کاٹ رہی تھیں۔

سخت سکیورٹی والے یونٹ میں وہ اپنے سیلوں کے دروازوں میں کھانے کی ٹرے دینے کے لیے بنے شگاف کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کرتی تھیں۔

اب سیلرز انصاف کے نظام میں اصلاحات اور جرائم سے متاثرہ افراد کے حقوق کے لیے وکالت کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہر زندگی اہم ہے، ہے نا؟ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کولین کی زندگی اہم تھی۔ میرے خیال میں اس وقت کرسٹا اپنی زندگی بچانے سے زیادہ اس بات کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں کہ ان کی زندگی کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US