سمِت مچھر: نیتن یاہو، ٹرمپ اور مودی کی جانب سے ’ہیرو‘ قرار دیے گئے فلائی دبئی کے انڈین کپتان کون ہیں؟

اسرائیلی وزیرِاعظم نے لکھا، ’چاقو سے حملہ ہونے اور شدید زخمی ہونے کے باوجود انھوں نے جوابی کارروائی کی، مزاحمت کی، کاک پٹ کا دروازہ کھولا اور مسافروں کے ساتھ عملے کے ارکان کو حملہ آور پر قابو پانے کے قابل بنایا۔ اس سے فضا میں ایک بڑا سانحہ ہونے سے بچ گیا۔‘

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز کو بدھ کے روز اس وقت سعودی عرب کا رخ کرنا پڑا جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ کو چاقو مار دیا اور بظاہر طیارہ گرانے کی کوشش کی۔

زخمی ہونے والے پائلٹ کی شناخت انڈین شہری کیپٹن سمِت مچھر کے نام سے ہوئی ہے۔ انھیں طیارے کے اترنے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے انھیں ’ہیرو‘ قرار دیا۔

فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں چاقو کے حملے کا شکار ہونے والے انڈین شہری کپتان سمِت مچھر نے مبینہ طور پر بےہوش ہونے سے پہلے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا تھا۔ اسرائیلی مسافر یانیو ہیون نے بدھ کے روز بین گوریون ایئرپورٹ پر وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران یہ معلومات فراہم کیں۔ ہیون نے نیتن یاہو کو بتایا کہ کاک پٹ کا دروازہ کھلا ہوا تھا، لیکن مچھر دروازے کے اتنے قریب تھے کہ اسے کھولنا مشکل تھا۔

انھوں نے کہا، ’میرا نتیجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی حاضر دماغی کا استعمال کرتے ہوئے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا اور اس کے بعد بے ہوش ہو گئے۔‘ بعد میں نیتن یاہو نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں مچھر کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے اس واقعے کا ذکر کیا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نے لکھا، ’چاقو سے حملہ ہونے اور شدید زخمی ہونے کے باوجود انھوں نے جوابی کارروائی کی، مزاحمت کی، کاک پٹ کا دروازہ کھولا اور مسافروں کے ساتھ عملے کے ارکان کو حملہ آور پر قابو پانے کے قابل بنایا۔ اس سے فضا میں ایک بڑا سانحہ ہونے سے بچ گیا۔‘

نیتن یاہو نے کہا کہ مچھر نے اسرائیلی شہریوں اور دیگر ممالک کے شہریوں سمیت 174 افراد کی جان بچائی۔

اسرائیلی نیوز ویب سائٹ یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق کئی مسافروں نے زخمی مچھر کو ابتدائی طبی امداد دی۔

ان میں اسرائیلی ڈینٹسٹ شوتا موسایف بھی شامل تھے۔ طیارے کی تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کے بعد مچھر کو سعودی عرب کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ موسایف نے اسرائیلی میڈیا کو بتایا کہ مچھر شدید زخمی تھے اور ان کے سر اور ہاتھوں سے کافی خون بہہ رہا تھا۔ ڈینٹسٹ نے خون روکنے میں مدد کی۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد مچھر کی حالت مستحکم ہو گئی، لیکن طیارے کی لینڈنگ کے دوران ان کی حالت پھر بگڑ گئی۔

موسایف نے یہ بھی بتایا کہ مچھر بول کر یہ بتانے کے قابل تھے کہ دوسرے پائلٹ نے ان پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔مچھر ایک تجربہ کار پائلٹ ہیں اور نئے پائلٹوں کو تربیت بھی دے چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اس واقعے کو ’ممکنہ جہادی دہشت گرد حملے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔ تاہم بی بی سی کو اب تک پولیس، ہنگامی خدمات یا تفتیشی اداروں کی جانب سے حملے کے محرکات کے بارے میں کوئی سرکاری بیان موصول نہیں ہوا۔

Fly Dubai
Reuters
مسافروں کو سعودی عرب سے واپس اسرائیل پہنچانے والی پرواز تل ابیب پہنچ چکی ہے

سمِت مچھر کون ہیں؟

کیپٹن مچھر کی پرورش انڈیا کے شہر ممبئی میں ہوئی جہاں ان کے والدین اب بھی مقیم ہیں۔

2008 میں، انھوں نے نیوزی لینڈ کے شہر ڈنیڈن میں قائم مین لینڈ ایئر میں داخلہ لیا جو ایک ایوی ایشن کالج ہے، اور تین سال بعد بھارتی ایئرلائن سپائس جیٹ میں کمرشل پائلٹ کے طور پر شامل ہوئے۔ سنہ 2022 میں وہ دبئی منتقل ہوئے اور فلائی دبئی کا حصہ بنے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے، مین لینڈ ایئر کے سی ای او فلپ کین نے کہا کہ وہ کیپٹن مچھر انھیں ایک ایسے شخص کے طور پر یاد ہیں جو بحران میں پرسکون رہتا تھا۔

’یہ کافی عرصہ پہلے کی بات ہے لیکن وہ ایک اچھا اور ایماندار ملازم تھا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم نے اسے فورسڈ لینڈنگ کے لیے تربیت دی تھی۔ اس قسم کی صورتحال کی نہیں، جو بہت نایاب ہے۔‘

سمیت مچھر کے لنکڈ ان پروفائل کے مطابق ان کے پاس بوئنگ 737-800 اور 737 MAX 8 سمیت نو قسم کے طیارے اڑانے کا تجربہ ہے جن میں انھوں نے 9,750 سے زائد گھنٹے پرواز کی ہے اور اس میں 6,400 سے زائد گھنٹے پائلٹ ان کمانڈ کے طور پر خدمات بھی شامل ہیں۔

ان کی سابق آجر کمپنی سپائس جیٹ نے ایک بیان میں کیپٹن مچھر کو ایسا ’ہیرو‘ قرار دیا جس نے ’بےشمار جانیں بچائیں۔‘

گذشتہ سال، کیپٹن مچھر نے ایک پوڈکاسٹ ’بونافائیڈ بینٹر‘ میں اپنے پرواز شروع کرنے کے تجربات اور پائلٹ کے طور پر اپنے تجربات کے بارے میں بات کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہوا بازی ان کے ’بچپن کا خواب نہیں تھی‘ اور جب وہ تقریبا 19 سال کے تھے، تو انھوں نے مینجمنٹ کورس میں شمولیت اختیار کی اور اپنے خاندان کے کاروبار کو سنبھالنے کا منصوبہ بنایا لیکن پھر انھیں ہوابازی سے متعلق ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا اور انھیں ’یہ کیڑا کاٹ گیا۔‘

سمیت مچھر نے یہ بھی کہا کہ جب وہ پائلٹ کی یونیفارم پہنتے تھے تو مکمل سنجیدہ ہوتے تھے اور صرف کام کے بارے میں سوچتے تھے لیکن جوانی کے برعکس اب وہ صحت مند کام اور ذاتی زندگی کے توازن اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ذاتی زندگی کو برابر کی اہمیت دیں۔ یہ آپ کو زیادہ دیر تک پرواز کرنے میں مدد دے گی۔‘

اس پوڈ کاسٹ میں انھوں نے فضا میں درپیش چیلنجز کی تفصیل بھی دی اور بتایا کہ کیسے ایک مسافر کو زچگی کا سامنا ہوا اور عملے نے مل کر بچے کے تحفظ کو یقینی بنایا۔

کیپٹن مچھر کا کہنا تھا کہ ’ہوا بازی کے لحاظ سے، میں خوش قسمت تھا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ بڑا ہوا جنھوں نے مجھے ویسا پائلٹ بننے میں مدد دی جو میں آج ہوں۔‘ اور انھیں دباؤ والے حالات کا سامنا کرنا سکھایا۔

گفتگو کے دوران کیپٹن مچھر نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے کسی بھی طیارے کو ایمرجنسی لینڈنگ نہیں کرنی پڑی۔ تاہم، انھیں دورانِ پرواز طبی ایمرجنسی اور ہوائی جہاز کے معمولی مسائل کا سامنا ضرور کرنا پڑا جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ تاخیر ’میرا مسئلہ نہیں ہے۔ جب تک آپ ہوائی جہاز سے (محفوظ طریقے سے) باہر جا رہے ہوں۔ میں یہی میں چاہتا ہوں۔"

انڈین سوشل میڈیا پر کیپٹن مچھر کی شناخت سامنے آنے کے بعد سے ان کی تعریف کی جا رہی ہے اور مبصرین نے انہیں ہیرو قرار دیا ہے۔

کیپٹن سمت کی تعریف کرنے والوں میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں۔انھوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا ’کیپٹن سمت مچھر ایک ہیرو ہیں۔ انتہائی سنگین خطرے کا سامنا کرنے اور شدید زخمی ہونے کے باوجود انھوں نے غیر معمولی بہادری اور دوسروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔‘

انڈین وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’ ان کی جرات نے سینکڑوں جانیں بچانے اور ایک بڑے سانحے کو روکنے میں مدد دی۔ انڈیا کو کیپٹن مچھر پر فخر ہے۔ ان کی جلد صحت یابی، نئی توانائی اور اچھی صحت کے لیے دعا گو ہوں۔‘

اسرائیل میں انڈین سفارتخانے کے ایکس اکاؤنٹ سے بھی کچھ ایسے ہیں خیالات کا اظہار کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فلائی دبئی کے پائلٹ کو ہیرو قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ پائلٹ نے کو پائلٹ کے چاقو سے کیے گئے حملے کا مقابلہ کیا، کاک پٹ کا دروازہ کھولا اور مدد کے لیے آواز لگائی، جس سے طیارے کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کی مبینہ کوشش ناکام بنانے میں مدد ملی۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ’پائلٹ کی حالت بہت خراب تھی۔ میرا اندازہ ہے کہ اب بھی ان کی حالت بہت خراب ہے۔ لیکن ان میں اتنی حاضر دماغی تھی کہ انھوں نے، یہ واقعی کمال تھا، ایک طرح سے وہ ہیرو تھے۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ پائلٹ کاک پٹ کا دروازہ کھولنے اور مدد کے لیے پکارنے میں کامیاب رہے۔

سمت مچھر کی سوشل میڈیا پر بھی کافی تعریف ہو رہی ہے۔ ایران کی ایک خاتون نے ایکس پر لکھا ’میرے شوہر پائلٹ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پائلٹوں کے پاس کاک پٹ میں ایک سوئچ ہوتا ہے، جس کے ذریعے اندر سے کاک پٹ کا دروازہ ان لاک کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ممکن ہے کہ کپتان سمیت مچھر نے صرف مدد کے لیے آواز ہی نہ لگائی ہو، بلکہ بے ہوش ہونے سے پہلے انھوں نے وہ سوئچ بھی دبا دیا ہو، تاکہ فلائٹ اٹینڈنٹ اور مسافر کاک پٹ کے اندر پہنچ سکیں۔‘

’اگر کاک پٹ کا دروازہ لاک ہی رہتا، تو شاید کوئی اندر جا کر طیارے کو بچانے میں مدد نہ کر پاتا۔ انھیں سلام۔ ان کے اس ایک فیصلے نے طیارے میں سوار تمام لوگوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

واقعہ کیسے پیش آیا؟

متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن ’فلائی دبئی‘ کی پرواز نمبر ایف زیڈ 1073 بدھ کو علی الصبح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی تھی۔

پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق روانگی کے تقریباً دو گھنٹے بعد طیارے کی جانب سے کوڈ نمبر 7700 نشر کیا گیا، جو ہنگامی صورتحال کی نشان دہی کرتا ہے۔

کچھ ہی منٹ بعد طیارے نے کوڈ نمبر 7500 بھی نشر کیا، جو عموماً طیارے میں غیر قانونی مداخلت یا ہائی جیکنگ جیسے واقعے کی اطلاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم بعد میں اسے دوبارہ عمومی ہنگامی سگنل میں بدل دیا گیا۔

ہنگامی لینڈنگ کرنے والے طیارے کی پرواز کا ڈیٹا
Anadolu via Getty Images

فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق طیارہ پرواز بھرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد سعودی عرب کی فضائی حدود میں تھا کہ اچانک تیزی سے اس کی بلندی کم ہونا شروع ہو گئی اور پاکستانی وقت کے مطابق 10:21 بجے کے فوراً بعد طیارہ دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17 ہزار فٹ نیچے آیا۔

اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرواز مختصر وقت کے لیے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوئی، تاہم چند منٹ بعد دوبارہ سعودی عرب کی فضائی حدود میں واپس آ گئی۔

تل ابیب جانے والی اس پرواز نے سعودی عرب کے شمال مشرقی شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی۔

عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

اسرائیلی شہری یاسمین ابو قسیس، جن کی بیٹی فلائی دبئی کی اس پرواز میں سفر کر رہی تھیں
AFP via Getty Images
اسرائیلی شہری یاسمین ابو قسیس، جن کی بیٹی فلائی دبئی کی اس پرواز میں سفر کر رہی تھیں

خبر رساں اداروں اور اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرنے والے مسافروں اور ان کے اہل خانہ نے واقعے کی تفصیلات بتائی ہیں۔

پرواز میں سوار ایک خاتون مسافر مریم کی والدہ یاسمین ابو قسیس نے خبر رساں اداروں اے پی اور روئٹرز کو بتایا کہ ان کی بیٹی نے فون پر اطلاع دی کہ طیارے میں چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی اور ایک پائلٹ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔

یاسمین کے مطابق ان کی بیٹی نے بتایا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے طیارہ قابو سے باہر ہو رہا ہو، جس پر مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

یاسمین ابو قسیس کے مطابق اُن کی بیٹی مریم نے انھیں بتایا کہ ایک شخص نے چاقو کے زور پر پائلٹوں میں سے ایک کو زمین پر گرایا ہوا تھا، جبکہ طیارے کے اندر ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔

یاسمین ابوقسیس نے روئٹرز کو بتایا کہ بعد ازاں دو دیگر پائلٹس نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا جبکہ مسافر ایک ایسے شخص کی طرف بڑھے جس کے ہاتھ میں چاقو تھا۔

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ سے گفتگو کرنے والے ایک مسافر نے کہا کہ ایک پائلٹ کو دوسرے پائلٹ نے چاقو مارا تھا، تاہم طیارے کے اگلے حصے میں موجود مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو کاک پٹ سے باہر نکالنے میں مدد دی۔

انھی مسافر کا مزید کہنا تھا کہ طیارے کے پچھلے حصے میں موجود دو دیگر پائلٹس نے بعد میں پرواز کی ذمہ داری سنبھالی اور طیارے کو بحفاظت اتارنے میں مدد کی۔

ایک اور مسافر الموگ اٹالی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ دونوں پائلٹ ’ریلیف پائلٹس‘ تھے، جنھیں بعد میں ایک دوسری پرواز کی ذمہ داریاں سنبھالنی تھیں۔

اٹالی کے مطابق ان میں سے ایک پائلٹ برطانوی تھے، جبکہ دوسرے کے بارے میں انھوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ یورپی تھے، تاہم ان کی قومیت نہیں بتائی۔

اٹالی کا کہنا تھا کہ کاک پٹ کے اندر پیش آنے والے واقعے کی درست تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، تاہم ان کے مطابق ریلیف پائلٹس نے طیارے کو دوبارہ قابو میں لیا اور اسے سعودی عرب میں بحفاظت اتارا۔

طیارے میں موجود ایک اسرائیلی مسافر نے صحافیوں کو بتایا کہ عملے نے مسافروں سے مدد طلب کی، جس کے بعد بعض مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا اور اسے باندھ دیا۔

اخبار اسرائیل ہیوم سے بات کرنے والی ایک خاتون مسافر نے کہا کہ مسافروں نے یہ سمجھا کہ پائلٹس طیارے کا کنٹرول کھو بیٹھے ہیں۔ ان کے بقول ایک پائلٹ کو چاقو کے زخم آئے تھے جو سنگین نوعیت کے تھے، اور کچھ مسافروں کے کپڑوں پر خون بھی لگا ہوا تھا۔

اسرائیلی شہری میئر زوہار کے بیٹے فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں سوار تھے۔ وہ تل ابیب کے قریب بین گوریون ایئرپورٹ پر موبائل فون پر گفتگو کر رہے ہیں
AFP via Getty Images
اسرائیلی شہری میئر زوہار کے بیٹے فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں سوار تھے۔ وہ تل ابیب کے قریب بین گوریون ایئرپورٹ پر موبائل فون پر گفتگو کر رہے ہیں

اسرائیلی میڈیا نے ایک ایسے شخص کی ویڈیو شیئر کی ہے جو بظاہر اسی پرواز میں موجود ہیں اور واقعے کی تفصیلات بیان کر رہے ہیں۔

بی بی سی ویریفائی کے مطابق ویڈیو کے جائزے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے رد و بدل کے شواہد نہیں ملے اور بظاہر یہ ویڈیو واقعے سے پہلے کہیں آن لائن پوسٹ نہیں کی گئی تھی۔

ویڈیو میں اس شخص کے چہرے پر خون دکھائی دے رہا ہے، اور وہ خود اپنی ویڈیو بناتے ہوئے کہہ رہے ہیں: ’ہم یہاں ہیں، طیارے میں۔ ہم نے ابھی شدت پسندوں پر قابو پایا ہے۔ ہم لینڈ کرنے والے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’جو بھی میری آواز سن رہا ہے، ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔ ہم تبوک میں اتر رہے ہیں۔ پرواز میں سوار تمام لوگ خیریت سے ہیں اور محفوظ ہیں، سوائے پائلٹ کے۔ ہمیں مدد کی ضرورت ہے۔‘

حکام کا کیا کہنا ہے؟

فلائی دبئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 30 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ جانے والی اس کی پرواز کو راستے میں ’ایک واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔‘

فلائی دبئی کے ترجمان کے مطابق پرواز کے دوران فلائٹ ڈیک میں جھگڑا ہوا۔

ایئرلائن کا کہنا ہے کہ طیارے میں سفر کرنے والے فلائی دبئی کے ڈیوٹی پر موجود عملے نے صورت حال پر کامیابی سے قابو پایا، جس کے بعد طیارے کا رخ موڑ کر اسے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا۔

بیان کے مطابق تمام مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ ہیں۔

ایئرلائن نے کہا کہ ’واقعے کی بنیادی وجوہات اور محرکات معلوم نہیں ہیں اور با ضابطہ تحقیقات کے ذریعے ان کا تعین کیا جائے گا۔‘

ایئرلائن نے اپیل کی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔

سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے کو چلانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز کے کپتان اور فرسٹ آفیسر دونوں زخمی ہوئے اور انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق تبوک ایئرپورٹ کے فضائی ٹریفک کنٹرول مرکز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 8:44 بجے فلائی دبئی کے طیارے سے ہنگامی کال موصول ہوئی، جس میں طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی۔

بیان کے مطابق اس کے تقریباً ایک گھنٹے بعد طیارہ بحفاظت تبوک ہوائی اڈے پر اتر گیا۔

طیارے میں سوار مسافروں کے اہل خانہ اور میڈیا کے نمائندے اسرائیل کے بین گوریون ائیرپورٹ پر جمع ہیں
Getty Images
طیارے میں سوار مسافروں کے اہل خانہ اور میڈیا کے نمائندے اسرائیل کے بین گوریون ائیرپورٹ پر جمع ہیں

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک پائلٹ کا طیارے کو جان بوجھ کر تباہ کرنے اور اس کے نتیجے میں تمام مسافروں کو ہلاک کرنے کا ارادہ تھا۔ انھوں نے اس واقعے کو ’جہادی دہشت گرد حملے کی ناکام کوشش‘ قرار دیا اور پائلٹ کو قابو کرنے پر اسرائیلی مسافروں کی تعریف کی۔

اسرائیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتامار بن گویر نے بھی اس واقعے پر سوشل میڈیا پر ردعمل دیا، تاہم بظاہر وہ حکومت کی جانب سے با ضابطہ مؤقف پیش نہیں کر رہے تھے۔

بن گویر نے کہا کہ ایک ’شدت پسند نے طیارہ گرانے اور اس میں سوار افراد کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔‘

انھوں نے طیارے میں موجود ’بہادر مسافروں‘ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ’سکیورٹی نظریے‘ کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو مختلف محاذوں پر ’مکمل فتح‘ حاصل کیے بغیر نہیں رکنا چاہیے۔

دوسری جانب اسرائیل کی بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولان نے طیارے میں موجود مسافروں کی بہادری کو سراہا، لیکن ساتھ ہی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے کو 'سستی سیاسی پوائنٹس سکورنگ' کے لیے استعمال کر رہی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US