قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو معاشی صورتحال پر پری بجٹ بریفنگ

image

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال پر پری بجٹ بریفنگ دی گئی، جس میں ماہرین نے تجارتی خسارے، مہنگائی اور دیگر اقتصادی چیلنجز پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گزشتہ 9 ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اجلاس میں مختلف ٹیکس نظاموں اور پالیسیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ نیب اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے، اب کہا جا رہا ہے کہ ایف بی آر اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے۔

پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کے ایم ڈی علی سلمان نے بریفنگ میں بتایا کہ ملکی معیشت میں مجموعی طور پر کچھ بہتری کے آثار ہیں تاہم متعدد چیلنجز برقرار ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے زر مبادلہ ذخائر 22.58 ارب ڈالر ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک کے پاس 17 ارب ڈالر سے زائد کے ذخائر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں داخل ہو چکی ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس شارٹ فال 610 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ فی کس آمدن 5 لاکھ 33 ہزار روپے ریکارڈ کی گئی ہے جو 2015 کے مقابلے میں کم ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ترسیلات زر میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور رواں سال اب تک 33.86 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں، جبکہ مجموعی مالی کارکردگی گزشتہ سال کے مقابلے میں ملی جلی رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق 9 ماہ کے دوران مجموعی آمدن اور ٹیکس وصولیوں کی شرح میں کمی ہوئی، تاہم اخراجات میں کچھ حد تک کنٹرول نظر آیا ہے۔ مالی خسارہ اور پرائمری بیلنس میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ فروری 2026 تک گیس اور بجلی کا گردشی قرض 5.1 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.5 فیصد اور خواتین میں 13 فیصد سے زائد ہے۔

بریفنگ میں غربت میں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی، جس کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ شرح 43.5 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عدم مساوات کی شرح 33.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین نے غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور جعلی مصنوعات کو معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوامل مقامی صنعت اور ٹیکس نظام کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں سیلاب، علاقائی کشیدگی اور زرعی اخراجات میں اضافہ بھی غذائی تحفظ کے لیے چیلنجز بن رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US