وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی بے دخلی کو روئٹرز کی جانب سے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی گمراہ کن کوشش قرار دیا ہے، کیونکہ یو اے ای کے سرکاری بیانات میں بے دخلی کی بنیاد قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کو بتایا گیا ہے۔
روئٹرز کی جانب سے 25 مئی 2026ء کی کہانی میں پاکستان کے لیے بے دخلیوں کو "فرقہ وارانہ ہدف" کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ایک سوچی سمجھی پروپیگنڈا مہم ہے، جس کا مقصد علاقائی تناؤ کو پاکستان میں منتقل کرنا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے حکام غیر ملکیوں پر رہائش، مالیاتی، سائبر اور سیکیورٹی کے قوانین کا یکساں اطلاق کرتے ہیں۔ اگرچہ یو اے ای کی جانب سے بے دخلی کے حوالے سے کوئی مجموعی ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا، لیکن یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ وہاں کے قوانین پر بہت سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ پورے جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کے ساتھ ایسے کئی یکساں واقعات پیش آچکے ہیں۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ قانونی یا انتظامی خلاف ورزیوں سے جڑی بے دخلیوں کو خود بخود فرقہ وارانہ ظلم و ستم کا رنگ نہیں دیا جاسکتا۔ روئٹرز نے خود بھی اعتراف کیا کہ یو اے ای کے حکام نے فرقہ وارانہ بنیادوں کا کوئی ذکر نہیں کیا، لیکن اس کے باوجود اس معاملے کو مشکوک انداز میں فرقہ وارانہ زاویے سے پیش کیا۔
پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان بے دخلیوں کا تعلق یو اے ای کے قوانین و ضوابط کی خلاف ورزیوں سے تھا۔
تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں پرامن طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ چند الگ تھلگ کیسز کو چن چن کر اچھالنا صرف بیانیے کی ہیرا پھیری (Narrative Manipulation) ہے، منظم امتیازی سلوک کا کوئی ثبوت نہیں۔
قانونی نفاذ کے معاملات کو فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی میں بدلنا براہِ راست دشمن کی انفارمیشن وارفیر (معلوماتی جنگ) کے مقاصد کو پورا کرتا ہے، جس کا مقصد پاکستانی معاشرے کو غیر مستحکم کرنا اور دوست خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو کمزور کرنا ہے۔
https://www.reuters.com/world/asia-pacific/pakistan-shiites-deported-uae-return-lost-jobs-frozen-savings-2026-05-25/?taid=6a13f7015d59c2000166f9f8&utm_campaign=trueAnthem:+Trending+Content&utm_medium=trueAnthem&utm_source=twitter