پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ ابراہم معاہدہ پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں کیونکہ یہ ملک کے بنیادی نظریات اور اصولی مؤقف سے متصادم ہے۔
نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بن سکتا جو اس کے قومی اور نظریاتی اصولوں کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو پاکستان نے اس حوالے سے کوئی پیش رفت کی ہے اور نہ ہی باضابطہ طور پر کسی نے پاکستان سے اس معاہدے میں شامل ہونے کی درخواست کی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، اس لیے ایسے فریقین پر اعتماد کرنا مشکل ہے جو اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے اور اسی وجہ سے پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام شامل نہیں۔
خواجہ آصف کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بعد پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت دیگر مسلم ممالک بھی ابراہم معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں۔
وزیر دفاع نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور اصولی مؤقف پر قائم ہے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔