وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے لیسکو کے خلاف سوشل میڈیا پر شکایت سامنے آنے کے بعد لیسکو انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے دو لائن مین اور ایک لائن سپرنٹنڈنٹ کو معطل کردیا ہے۔
ایکسیئن پھول نگر ڈویژن کے مطابق معطل کیے گئے اہلکاروں میں لائن سپرنٹنڈنٹ محمد حسین، لائن مین شوکت اور لائن مین فلک شیر شامل ہیں۔
لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ گاؤں میں 200 کلوواٹ کا ٹرانسفارمر جل جانے کے بعد عارضی طور پر 100 کلوواٹ کا ٹرانسفارمر نصب کیا جا رہا تھا، تاہم مقامی افراد اور خواجہ آصف کے کوآرڈینیٹر نے عملے کو کام مکمل کرنے سے روک دیا۔
ایکسیئن پھول نگر کے مطابق انہوں نے خود چک 27 کا دورہ کیا، تاہم تحقیقات کے دوران لیسکو عملے کو رقم دیے جانے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے شکایت کی تھی کہ ان کے ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کی تبدیلی کے لیے مبینہ طور پر 80 ہزار روپے رشوت وصول کی گئی۔ دوسری جانب لیسکو ذرائع کا مؤقف ہے کہ شبیر نامی ایک شخص نے گاؤں والوں سے رقم اکٹھی کی، تاہم اس کا لیسکو سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
لیسکو حکام کے مطابق معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات جاری ہیں، جبکہ چیف ایگزیکٹو لیسکو کے نوٹس پر ڈائریکٹر سرویلنس اینڈ انسپکشن کی ٹیم واقعے کی مکمل انکوائری کر رہی ہے۔