امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق انتہائی مضبوط اور تفصیلی شقیں شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر "فیک نیوز" پھیلائی اور غلط دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات شامل نہیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے میں صاف طور پر درج ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا جبکہ جوہری امور اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدے کا بڑا حصہ ایران کے جوہری پروگرام اور اس سے متعلق مختلف پہلوؤں پر مشتمل ہے۔
امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں سی این این کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا نئی ملکیت کے تحت یہ ادارہ اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مؤقف کا بھی اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت کمزور پوزیشن میں ہے اور اس کی فوجی، بحری اور فضائی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل مذاکرات کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیوں پر توجہ دینے کے بجائے مذاکراتی عمل کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔