والدہ کے کینسر علاج کے لیے 9 سالہ بچے نے سوشل میڈیا پر کاروبار شروع کر دیا

image

اسلام آباد میں رہنے والے 9 سالہ محمد ابراہیم نے اپنی والدہ نوشین کے کینسر کے علاج میں مدد کے لیے ہاتھ سے سجے ہوئے آئینے فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ٹوٹے ہوئے گھریلو آئینے کو سجانے کا شوق اب ان کے خاندان کے لیے آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے۔

16 مئی کو ابراہیم نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ پلے ڈو اور گوند کی مدد سے پرانے آئینے کو سجا رہے تھے۔ یہ ویڈیو 51 لاکھ سے زائد بار دیکھی جا چکی ہے جبکہ اسے 5 لاکھ سے زائد تبصرے اور لاکھوں لائکس بھی ملے ہیں۔

ابراہیم کا خاندان گزشتہ کچھ عرصے سے والدہ نوشین کی بریسٹ کینسر سے متعلق ویڈیوز بھی شیئر کر رہا تھا۔ نوشین، جو پہلے میک اپ ٹیوٹوریلز بناتی تھیں، انہوں نے بتایا کہ علاج کے بڑھتے اخراجات نے زندگی مشکل بنا دی ہے، اسی لیے اب گھر کے تمام افراد کام کر رہے ہیں۔

محمد ابراہیم نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے کاروبار کرنا چاہتے تھے اور لوگوں کی جانب سے آئینوں کے آرڈرز ملنے کے بعد انہیں مزید حوصلہ ملا۔ ہر آئینہ تیار کرنے میں 5 سے 6 گھنٹے لگتے ہیں اور اس کی قیمت 1800 سے 2500 روپے رکھی گئی ہے تاکہ زیادہ لوگ انہیں تحفے کے طور پر خرید سکیں۔

عید کی 10 روزہ تعطیلات کے دوران ابراہیم زیادہ سے زیادہ آرڈرز مکمل کرنا چاہتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ آرڈرز کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ اتنی تیزی سے کام نہیں کر سکتے۔ ان کی والدہ کے مطابق وہ تعلیم میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہیں اور تعلیم اب بھی ان کی پہلی ترجیح ہے۔

محمد ابراہیم کے والد علی حیدر، جو پہلے بائیک ہیلنگ سروس کے رائیڈر تھے، کہتے ہیں کہ کینسر کے اخراجات نے خاندان کو سوشل میڈیا کے ذریعے آمدنی کمانے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق پاکستان میں انسٹاگرام مونیٹائزیشن اور پے پال جیسی سہولیات نہ ہونے کے باعث کریئیٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خاندان مستقبل میں کی چینز اور دیگر ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات بھی فروخت کرنا چاہتا ہے، جبکہ محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ وہ نوکری نہیں بلکہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت بننا چاہتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US