وفاقی بجٹ کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کے لیے حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جبکہ فریقین کے درمیان مشاورت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اجلاس میں بجٹ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے دوران اسے مناسب طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس پر پارٹی کو تحفظات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران نہ تو کسی آئینی ترمیم پر بات چیت ہوئی اور نہ ہی قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں کسی ممکنہ تبدیلی کا معاملہ زیر غور آیا۔
مذاکرات کے باوجود پیپلز پارٹی کے خدشات مکمل طور پر دور نہ کیے جا سکے، جس کے باعث دونوں فریقوں نے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان ایک اور اجلاس آج متوقع ہے۔
دوسری جانب 5 جون کو طلب کیا گیا بجٹ اجلاس پہلے ہی مؤخر کیا جا چکا ہے، تاہم نئی تاریخ کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ پیش کرنے سے قبل بعض اہم قانون سازی مکمل کرنا چاہتی ہے۔
ادھر ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کے معاملے کو بجٹ کی منظوری سے مشروط قرار دیا ہے، جس کے باعث سیاسی مشاورت میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔