قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ بنگلا دیش سے ہماری ٹیم ڈویلپ ہو رہی تھی جہاں ہم نے 6 کھلاڑیوں کو ڈیبیو کروایا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ابھی 18 ماہ باقی ہیں اور اس دوران ہم نوجوان کھلاڑیوں کی تلاش کے ساتھ ایک اچھا کمبینیشن اور مضبوط ٹیم تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ورلڈ کپ کے لیے ایسے کھلاڑی سلیکٹ کرنے ہیں جو ہر طرح کی کنڈیشن میں پرفارم کرسکیں کیونکہ وہاں ہمیں مختلف قسم کی پچوں پر کھیلنا ہوگا، جن میں سے کچھ یہاں کی طرح سلو بھی ہوں گی۔
ہیڈ کوچ نے پچ اور کنڈیشنز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں گرمی کی وجہ سے زیادہ اسپن وکٹیں تیار ہوں گی اور تیز پچز نہیں ملیں گی۔ گزشتہ سال ساؤتھ افریقہ کے خلاف بھی ہم اسی طرح کی وکٹوں پر کھیلے تھے، ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے مختلف پچز تیار کی ہیں، تاہم آج پچ کا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ آسٹریلیا نے بہترین کرکٹ کھیلی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ون ڈے کرکٹ میں ہم نے یہاں کی پچز پر اچھا پرفارم نہیں کیا اور یہ ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی اور سلیکشن پر گفتگو کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے کہا کہ شاداب خان نے کیریئر کا آغاز بولنگ سے کیا تھا لیکن انہوں نے خود کو بطور بیٹنگ آل راؤنڈر ڈھالا ہے اور وہ ہمارے لیے پانچویں بولر کے طور پر کام آتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فہیم اشرف کو اس سیریز کے لیے ڈراپ نہیں کیا گیا، بلکہ ہمیں محسوس ہوا کہ یہاں اسپن وکٹیں ہوں گی اسی لیے زیادہ فاسٹ بولرز شامل نہیں کیے۔ آل راؤنڈرز کے موازنے پر ان کا کہنا تھا کہ ہر ٹیم کے پاس عبدالرزاق اور اظہر محمود جیسے عظیم کھلاڑی نہیں ہوتے۔
نوجوان کھلاڑیوں کے بارے میں اپ ڈیٹ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ احمد دانیال ابھی ڈویلپ ہو رہے ہیں اور ایک سے دو ماہ میں تیار ہو جائیں گے، جبکہ عباس آفریدی بیٹنگ میں اچھا کر رہے ہیں لیکن انہیں بولنگ میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہیڈ کوچ نے عرفات منہاس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اچھا آغاز کیا اور پی ایس ایل میں بھی بہترین پرفارمنس دی، وہ کافی میچور کھلاڑی ہیں۔