سندھ کے مختلف علاقوں میں آنے والے شدید مٹی کے طوفان اور تیز بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق جبکہ 210 سے زائد زخمی ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق نواب شاہ میں 4، دادو میں ایک اور قاضی احمد میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ طوفانی ہواؤں اور بارشوں کے باعث صوبے بھر میں درجنوں مکانات، بجلی کا نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے متاثر ہوئے۔
دادو کے علاقے میہڑ اور گردونواح میں تیز ہواؤں اور بارش نے شدید نقصان پہنچایا۔ گھروں کی چھتیں، دیواریں اور سولر پلیٹیں گرنے کے متعدد واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔
شدید مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش کے باعث مواصلاتی اور بجلی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ سکھر اور اطراف کے علاقوں میں حدِ نگاہ کم ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جبکہ سیپکو ریجن کے 60 سے زائد بجلی فیڈرز ٹرپ کر جانے سے وسیع علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔
کشمور اور کندھ کوٹ میں بھی طوفانی ہواؤں اور بارش کے باعث متعدد سولر پلیٹیں اڑ گئیں اور کئی گھروں کی چھتوں کو جزوی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارشوں، بعض مقامات پر موسلا دھار بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، پنجاب کے مختلف اضلاع، خیبرپختونخوا کے بالائی اور وسطی علاقوں، جبکہ بلوچستان کے متعدد اضلاع میں بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔
سندھ کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے، تاہم سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، گھوٹکی، کشمور اور شکارپور میں بارش ہوسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ممکنہ موسلا دھار بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور بعض شہری و دیہی رابطہ سڑکوں کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔