پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے کراچی میں گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وہاں آزاد اور شفاف انتخابات کرانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی میدان میں شکست کے خوف نے سیاسی مخالفین کو پری پول رگنگ پر مجبور کردیا ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ان کی نیندیں حرام کردی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف حلقوں سے انتخابی عمل میں مداخلت، انتظامی افسران کے تبادلوں، ووٹر لسٹوں میں ردوبدل اور سرکاری مشینری کے ذریعے نتائج پر اثرانداز ہونے کی تشویشناک شکایات موصول ہو رہی ہیں، جو کہ جمہوری اقدار کے خلاف ہیں۔
شازیہ مری نے وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں سرگرم شرکت اور انتخابات کے دوران گلگت بلتستان میں پنجاب پولیس کی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے شفافیت پر سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے سوال کیا کہ انتخابی عمل کو غیر جانبدار بنانے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں، کیونکہ آئین کے آرٹیکل 218 کے تحت شفاف، منصفانہ اور ایماندارانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے مینڈیٹ کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے کیونکہ عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی کسی بھی کوشش یا عوامی مینڈیٹ پر ڈاکے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔