گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مشترکہ امیدواروں اور پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات سامنے آگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے رجسٹریشن کے مسائل کے باعث سب سے پہلے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے انتخابی نشان پر انتخابات لڑنے کے لیے محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا۔ اس سلسلے میں محمود اچکزئی نے اپنی پارٹی کے قائدین کو پشاور بھیجا، جہاں پشتونخوامیپ کی قیادت نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے ملاقات کی، تاہم خالد خورشید سے مشاورت کے بعد پی ٹی آئی قائدین نے پشتونخوامیپ کے نشان پر الیکشن لڑنے سے انکار کردیا۔
دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین نے بھی پی ٹی آئی کو گلگت بلتستان میں انتخابی اتحاد کی پیشکش کی۔ ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے پی ٹی آئی کو 16 نشستوں پر اتحاد کرنے اور مشترکہ جلسے منعقد کرنے کا کہا، لیکن پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے ایم ڈبلیو ایم کے انتخابی نشان پر حصہ لینے سے انکار کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے ایم ڈبلیو ایم کے ساتھ اتفاق نہ ہونے کی بڑی وجہ مذہبی بنیادوں پر ووٹ کی تقسیم کو قرار دیا جبکہ خالد خورشید نے مشترکہ جلسوں کے حوالے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے پارٹی کے پاس فنڈز موجود نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت سے ایم ڈبلیو ایم اور پشتونخوامیپ سمیت مزید دو جماعتوں کے رابطے بھی ہوئے لیکن انتخابی نشان اور اتحاد پر اتفاقِ رائے نہ ہوسکا۔