سفارتی سرگرمیاں تیز، پاکستان کا چین، امریکا، یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

image

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں انتہائی اہم اور مصروف رہیں، جن میں وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ چین، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورۂ امریکا اور یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کے پاکستان کے دورے نمایاں رہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کیا، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ دورے کے دوران آئی ٹی، ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور زراعت کے شعبوں میں پاکستان چین بزنس کانفرنس کی بھی صدارت کی گئی۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 26 سے 28 مئی تک امریکا کا دورہ کیا اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مباحثے سمیت مختلف بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔

انہوں نے بتایا کہ 29 مئی کو واشنگٹن میں اسحاق ڈار نے امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کو سراہا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں نائب وزیراعظم نے مصر، ایران اور کویت کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یکم جون کو یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا۔ دونوں فریقین نے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات پر انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اعلامیے میں مشرقی یروشلم کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور 1967ء کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US