محبت کی ایک منفرد داستان پاکستان کے شہر چشتیاں میں سامنے آئی جہاں امریکا سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ خاتون نے ایک پاکستانی نوجوان سے شادی کے لیے ہزاروں میل کا سفر طے کیا۔ دونوں کی پہلی جان پہچان سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک مضبوط تعلق میں تبدیل ہوگئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی شہری مورس ایشلے اور 21 سالہ کیف الوریٰ کے درمیان آن لائن رابطہ قائم ہوا تھا۔ مسلسل گفتگو اور باہمی اعتماد نے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا جس کے بعد خاتون نے پاکستان آ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا انتخاب کیا۔
پاکستان آمد کے بعد خاتون چشتیاں کے نواحی علاقے کمال پور پہنچیں، جہاں دونوں خاندانوں کی موجودگی میں نکاح کی تقریب منعقد ہوئی۔ نکاح سے قبل انہوں نے اسلام قبول کیا اور ان کا اسلامی نام خدیجہ رکھا گیا۔ شادی کے موقع پر حق مہر دو ہزار امریکی ڈالر مقرر کیا گیا۔
نو مسلم خدیجہ نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام قبول کرنا ان کا ذاتی فیصلہ تھا اور اس سلسلے میں ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے مطالعے اور سوچ بچار کے بعد یہ قدم اٹھایا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ جدید دور میں سوشل میڈیا صرف رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ مختلف ثقافتوں، معاشروں اور براعظموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔ چشتیاں میں ہونے والی یہ شادی مقامی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔