پاکستان میں سرکاری قرضوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کے اثرات اب اعداد و شمار کی صورت میں بھی نمایاں نظر آنے لگے ہیں۔ تازہ مالیاتی معلومات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک کے ہر شہری پر اوسط قرض میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی فرد قرضہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران فی کس قرض میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستی مالی ذمہ داریوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کا اثر بالآخر معیشت اور عوام دونوں پر پڑتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی عوامی قرضے 80 کھرب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک پر واجب الادا مجموعی قرضوں کی مالیت 97 ہزار ارب روپے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ رقم کئی ہزار ارب روپے بڑھ چکی ہے، جو مالیاتی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
معاشی ماہرین اس بات پر توجہ دلا رہے ہیں کہ قرضوں میں اضافے کی رفتار ملکی معیشت کی ترقی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق جب قرضوں کا تناسب قومی پیداوار کے مقابلے میں بلند ہوتا جائے تو حکومت کے لیے ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولتوں اور سماجی شعبوں پر اخراجات کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ ایک پاکستانی کی اوسط سالانہ آمدنی تقریباً 5 لاکھ 32 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو فی فرد قرض کی رقم عام شہری کی سالانہ آمدنی کے ایک بڑے حصے کے برابر بنتی ہے، جو معاشی دباؤ کی شدت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین صورتحال کو سادہ مثال سے یوں بیان کرتے ہیں کہ اگر ملکی معیشت کو ایک گھر تصور کیا جائے تو اس گھر کی آمدنی اور اس پر موجود قرض کے درمیان فرق تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالیاتی استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں قرضوں کے بوجھ کو قابو میں رکھنے کے لیے آمدنی میں اضافہ، اخراجات پر مؤثر نگرانی اور طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی ناگزیر ہوگی۔ بصورت دیگر قرضوں کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں حکومتی وسائل پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔