سندھ نرسنگ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے بی ایس این نرسنگ کے داخلوں کے حالیہ اشتہار اور آفیشل ویب سائٹ پورٹل پر قومی زبان اردو کو مکمل طور پر نظرانداز کیے جانے پر صوبے کے طالب علموں اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ویب سائٹ پر آن لائن داخلہ فارم پر زبانوں کے آپشن میں صرف انگریزی اور سندھی کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ صوبے کی ایک بہت بڑی آبادی بالخصوص کراچی، حیدرآباد، سکھر اور دیگر شہری علاقوں کے لاکھوں اردو بولنے اور سمجھنے والے طلبہ کے لیے کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔
تعلیمی ماہرین اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نرسنگ جیسے شعبے میں جہاں مڈل کلاس اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد اپلائی کرتی ہے، وہاں معلوماتی مواد کا قومی زبان میں نہ ہونا ایک بڑی رکاوٹ اور ناانصافی کے مترادف ہے۔ اس اقدام کو آئینِ پاکستان کی روح کے بھی منافی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ سرکاری سطح پر کسی بھی بڑی زبان کو نظرانداز کرنے سے طلبہ میں مایوسی پھیلتی ہے اور میرٹ کے شفاف عمل پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انگریزی یا دیگر زبانوں پر عبور نہ رکھنے والے کثیر التعداد طلبہ کے لیے داخلے کی پیچیدہ شرائط کو سمجھنا اب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس سے ان کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگنے کا خدشہ ہے۔
اس صورتحال میں سوشل میڈیا اور تعلیمی فورمز پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے کا بھی قوی امکان ہے، متعلقہ حلقوں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیرِ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں۔
عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ویب سائٹ پورٹل پر فوری طور پر اردو زبان کا آپشن بھی شامل کیا جائے تاکہ صوبے کے تمام اضلاع کے طلبہ بغیر کسی تفریق اور دشواری کے داخلہ فارم پُر کرسکیں اور کسی بھی طالب علم کی حق تلفی نہ ہو۔