وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحات سے متعلق اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور محصولات میں اضافے کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ان لینڈ ریونیو کی وصولیوں کو مزید مؤثر، شفاف اور فیس لیس بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ٹیکس نظام کو خودکار، شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا، جبکہ انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے ایک خودکار، جدید اور مؤثر ٹیکس مینجمنٹ نظام کا قیام حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نئے نظام کے نفاذ سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس نظام میں شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معیشت کی دستاویزی شکل اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے ایف بی آر اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجوزہ آٹومیٹڈ ٹیکس نظام جائیدادوں، گاڑیوں اور بینکوں کے ڈیٹا کی مدد سے کم ظاہر کی گئی آمدن اور اثاثوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نئے نظام کے تحت نیشنل فیس لیس آڈٹ ونگ، نیشنل اسیسمینٹ ونگ اور فیلڈ آپریشنز ونگ کے قیام کی تجویز بھی دی گئی۔
وزیراعظم نے انکم ٹیکس وصولی کے مجوزہ آٹومیٹڈ نظام کا پائلٹ منصوبہ اسلام آباد سے شروع کرنے کی ہدایت جاری کی۔
اجلاس میں غیر قانونی سگریٹس کے خلاف کارروائیوں پر صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ بریفنگ کے مطابق انفورسمنٹ اقدامات کے نتیجے میں رواں سال سگریٹ کے شعبے سے قومی خزانے کو 40 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول ہونے کی توقع ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، معاون خصوصی ہارون اختر اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔