وفاقی حکومت کے مجوزہ بجٹ پر ملک کے 20 انتہائی پسماندہ اضلاع کے لیے ناکافی فنڈز مختص کرنے کے باعث تنقید سامنے آگئی ہے۔
بجٹ سے متعلق دستیاب تفصیلات کے مطابق پسماندہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 40 ارب روپے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم مجوزہ بجٹ میں صرف ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
فنڈز میں نمایاں کمی پر ناقدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے علاقائی عدم مساوات کے خاتمے اور ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں عوامی معیارِ زندگی بہتر بنانے کے حکومتی عزم پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ملک کے انتہائی محروم اضلاع کی ترقی کے لیے شروع کیا گیا خصوصی ترقیاتی پروگرام 2022 کے بعد سے بڑی حد تک نظرانداز رہا ہے، جس کے باعث ان علاقوں میں ترقیاتی عمل کی رفتار بھی سست پڑ گئی ہے۔
ملک کے سب سے کم ترقی یافتہ اضلاع میں بلوچستان کے خضدار، واشک، کوہلو، موسیٰ خیل، ژوب اور ڈیرہ بگٹی سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں، جہاں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کی صورتحال بدستور تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے خاطر خواہ وسائل کی فراہمی نہ صرف علاقائی تفاوت کم کرنے بلکہ قومی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے بھی ناگزیر ہے۔