پاکستان نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر عالمی برادری کے ساتھ مل کر کرۂ ارض کے تحفظ اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماحول دوست اور پائیدار مستقبل کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جاری پیغام میں کہا گیا کہ اس سال کا موضوع “موسمیاتی اقدامات” دنیا کو درپیش ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور عملی اقدامات کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات عالمی سطح پر جامع حکمت عملی اور مشترکہ کوششوں کے متقاضی ہیں۔
پیغام میں کہا گیا کہ تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلاؤ، پانی کی قلت اور فضائی آلودگی اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین عالمی مسئلہ بن چکی ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کررہی ہے۔
حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی آلودگی میں کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور ماحولیاتی تنزلی کی بھاری انسانی و معاشی قیمت ادا کررہے ہیں۔
پیغام کے مطابق حکومت قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، جنگلات کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، آبی وسائل کے مؤثر انتظام، آلودگی میں کمی، موسمیاتی موافق زراعت اور سبز صنعتوں کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی اور تحفظ سے متعلق پالیسیوں پر بھی کام جاری ہے۔
اس موقع پر نوجوانوں کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نئی نسل کی صلاحیتیں، اختراعی سوچ اور ٹیکنالوجی سے وابستگی پاکستان کو ماحولیاتی طور پر مضبوط اور پائیدار ملک بنانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔
پیغام میں شہریوں، اداروں، کاروباری طبقے، کسانوں اور زراعت سے وابستہ افراد پر زور دیا گیا کہ وہ ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی استحکام کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔
عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر شجرکاری، جنگلی حیات کے تحفظ، پانی اور توانائی کے مؤثر استعمال اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ مشترکہ کاوشوں سے ایک سرسبز، صاف ستھرا، صحت مند اور موسمیاتی لحاظ سے مستحکم پاکستان کی تعمیر ممکن بنائی جاسکتی ہے۔