نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر اپنے پیغام میں موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرۂ ارض کے تحفظ اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عالمی اقدامات ناگزیر ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہونے کے باوجود سیلاب، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، خشک سالی، شدید گرمی کی لہروں اور بڑھتے ہوئے آبی دباؤ جیسے چیلنجز کا ثابت قدمی سے سامنا کر رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور ماحولیاتی آلودگی جیسے باہم جڑے مسائل سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور صلاحیتوں کے اصول کے تحت تعاون کو مزید فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ماحولیاتی تحفظ کو اپنی پالیسی ترجیحات کا اہم حصہ بنا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہر شہری کے لیے صاف، صحت مند اور پائیدار ماحول کے حق کو آئینی طور پر بنیادی حق تسلیم کیا جانا ایک اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رہائشی منصوبوں، صاف توانائی کی جانب منتقلی اور ماحول دوست تعمیراتی طریقوں کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے، تاہم موسمیاتی چیلنجز کی شدت اس امر کی متقاضی ہے کہ عالمی سطح پر اجتماعی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے۔
انہوں نے عالمی یومِ ماحولیات کی میزبانی پر آذربائیجان کی حکومت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان نے ماحولیاتی مسائل پر بین الاقوامی تعاون اور تعمیری مکالمے کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی مزاحمت اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔