شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے گرد چھائے بے شمار رازوں میں، ان کی والدہ کے بارے میں راز داری خاص طور پر نمایاں ہے۔ اقتدار میں اپنے 15 برس کے دوران کم نے ایک بار بھی عوامی طور پر ان کا نام نہیں لیا۔
نوجوان کو یونگ ہوئی درمیان میں، کم جونگ اُن بائیں جانب، اور کم جونگ اِل دائیں جانب۔ تینوں کے پیچھے جاپان اور شمالی کوریا کا جھنڈا ہے۔شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے گرد چھائے بے شمار رازوں میں، ان کی والدہ کے بارے میں راز داری خاص طور پر نمایاں ہے۔ اقتدار میں اپنے 15 برس کے دوران کم نے ایک بار بھی عوامی طور پر ان کا نام نہیں لیا۔
موروثی آمریت کی قانونی حیثیت ’ماؤنٹ پیکٹو‘ کی نسل سے جڑی ہے، یہ نام کوریائی جزیرہ نما کے بلند ترین پہاڑ سے لیا گیا ہے، جسے کوریائی عوام کی افسانوی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے اور یہی وہ مقام بھی ہے جہاں بانی رہنما کم اِل سنگ نے جاپانی نوآبادیاتی طاقت کے خلاف گوریلا سرگرمیاں کیں۔
حکمران خاندان کی دونوں سابق ماؤں کانگ پان سوک، جو ملک کے بانی کم اِل سنگ کی والدہ تھیں، اور کم جونگ سوک، جو کم جونگ اِل کی والدہ تھیں، دونوں کو ’کوریا کی ماؤں‘ کے طور پر تعظیم دی گئی۔ اس کے برعکس، کو یونگ ہوئی ایک نسبتاً گمنام شخصیت ہیں جن کے نام پر کچھ نہیں رکھا گیا۔
کو یونگ ہوئی کے بارے میں یہ خاموشی ممکن ہے ان کی سماجی حیثیت کو مشکوک سمجھے جانے اور ساتھی (مِسٹریس) ہونے کی بنا پر ہو، جنھیں تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کے لیے خطرہ سمجھا جا سکتا ہے۔
کو یونگ ہوئی، غالباً 30 یا 40 کی دہائی میں، نیلے اور سفید کوریائی لباس میں ملبوس، کیمرے کی طرف دیکھ رہی ہیںسوانح نگاروں کے مطابق کو کی پیدائش 1952 میں جاپان کے شہر اوساکا میں ہوئی، ان کے والدین بنیادی طور پر جنوبی کوریا کے جزیرہ جیجو سے تعلق رکھتے تھے، جسے دشمن علاقہ سمجھا جاتا تھا۔
جاپان میں قیام کے باعث کو کا خاندان ’زائنیچی کوریئنز‘ کہلاتا تھا، یہ وہ تارکینِ وطن تھے جو 1910 سے 1945 تک جاپانی نوآبادیاتی دور میں وہاں گئے تھے۔
شمالی کوریا واپس آنے والوں کو ابتدا میں رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کیونکہ وہ سرمایہ دار ہمسائے سے نقدی، کپڑے اور گھریلو اشیا لاتے تھے۔ تاہم، انھیں ’جائیپو‘ کہہ کر پکارا جاتا، جو ایک توہین آمیز اصطلاح تھی اور انھیں بیرونی، خطرناک نظریات سے متاثر سمجھا جاتا تھا۔
شمالی کوریا کے سخت سماجی درجہ بندی کے نظام ’سونگ بُن‘ میں زائنیچی کوریئنز کو مرکزی اور دشمن طبقوں کے درمیان ’غیر مستحکم طبقے‘ میں رکھا جاتا ہے۔ ان پر ریاست کی کڑی نظر ہوتی ہے اور انھیں اکثر اچھی جامعات یا بہتر ملازمتوں تک رسائی نہیں دی جاتی۔
شمالی کوریا ایک گہرا درجہ بند معاشرہ ہے، جسے بعض تجزیہ کار ذات پات کے نظام سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔
ڈونگ یانگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر جینگ ینگ تے کے مطابق یہ ’تعلق کی بنیاد پر جرم ٹھہرانے کا نظام‘ بھی ہے، اور شہریوں کو اس بات پر سزا دی جاتی ہے کہ ان کے خاندان کے افراد کیا کرتے ہیں۔
’سنڈریلا‘ کی کہانی
روایتی کوریائی لباس پہنے تقریباً ایک درجن نوجوان خواتین گاڑیوں کے سامنے کھڑی ہیں۔ کو یونگ ہوئی سامنے بائیں جانب کھڑی ہیں۔جب کو تقریباً 10 برس کی تھیں، ان کا خاندان شمالی کوریا منتقل ہو گیا۔ ان کا خاندان ان تقریباً 93,000 افراد میں شامل تھا جو 1959 اور 1984 کے درمیان ’زمین پر جنت‘ مہم کے تحت جاپان سے آئے تھے، ایک ایسا منصوبہ جس میں مفت صحت، تعلیم اور روزگار کی نوید دی گئی تھی۔
تاہم کو کے لیے حالات مختلف رہے، کیونکہ انھوں نے اپنے ساتھی زائنیچی کوریئنز کے مقابلے میں غربت اور مشکلات سے نکل کر اس وقت کے رہنما کم جونگ اِل کی توجہ حاصل کر لی۔
اگرچہ کم نے کبھی اپنی بیوی یا ساتھی کو عوامی طور پر سامنے نہیں لایا، شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس وقت کم یونگ سوک سے شادی شدہ تھے، جو ایک اعلیٰ فوجی افسر کی بیٹی تھیں اور یہ شادی ان کے والد نے طے کی تھی۔
کو، جو اعلیٰ سطح کے منسودے آرٹ ٹروپ کی رکن تھیں، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی ’فطری خوبصورتی اور رقص کی مہارت‘ کی وجہ سے کم جونگ اِل کو متاثر کیا۔
جاپانی رپورٹر یوجی گومی جنھوں نے 2025 میں کو پر ایک کتاب شائع کی، ان کے مطابق کو، جو اشرافیہ کے منصودے آرٹ ٹروپ کی رکن تھیں، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی ’فطری خوبصورتی اور رقص کی مہارت‘ کی وجہ سے کم جونگ اِل کی توجہ حاصل کی۔
کو کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کم جونگ اِل کی پسندیدہ مسٹریس تھیں۔اور اگرچہ انھوں نے کبھی سپریم لیڈر سے شادی نہیں کی، اور ان کے تعلق کو ریاستی نظام نے تسلیم نہیں کیا، تاہم کو نے وہ زندگی گزارنے میں کامیابی حاصل کی جسے گومی ’سنڈریلا جیسی زندگی‘ قرار دیتے ہیں۔
کم جونگ اِل پہلے ہی اپنی اہلیہ کم ینگ سوک کے ساتھ شادی شدہ تھے، جو ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار کی بیٹی تھیں۔ ان کا انتخاب کم اِل سنگ نے خود کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق کم کو کو سے گہری محبت ہو گئی تھی، جو بعد میں ملک کی سیاست میں دلچسپی لینے لگیں۔
تاہم، ان کی سرکاری بیوی دارالحکومت پیانگ یانگ میں مقیم تھیں، جبکہ کو اور ان کے تین بچوں کو ساحلی شہر وانسان میں 210 کلومیٹر (130 میل) دور رکھا گیا۔
ناردرن ریسرچ ایسوسی ایشن کے کم ہیونگ سو کہتے ہیں، ’کم جونگ اُن سرکاری بیوی کے بیٹے نہیں ہیں۔ وہ بنیادی طور پر کو یونگ ہوئی کے ’ناجائز بیٹے‘ ہیں۔‘
’حکومتی خاندان پیئکٹو کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ رہنما کسی جے پو کے بیٹے ہوں۔‘
شادی سے باہر پیدا ہونے والے بچوں کو شمالی کوریا میں شدید سماجی بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اپنی کمیونسٹ جھلک کے باوجود قدیم عقائد سے گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، والدین کی اطاعت اور وفاداری جیسے تصورات کو عوام کی ذہن سازی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
بہت سے ماہرین کے مطابق کو یونگ ہوئی نے اپنے بیٹے کو جانشین بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔گومی ایک اور وجہ بیان کرتے ہیں کہ کم جونگ اُن دارالحکومت سے دور کیوں پلے بڑھے۔ اس وقت وانسان اور جاپان کے درمیان ایک فیری چلتی تھی، جس سے کو کے لیے جہاز سے آنے والوں سے ملنا اور جاپانی اشیا حاصل کرنا آسان ہو جاتا تھا۔
وہ کہتے ہیں، ’کو کو جاپان میں اپنا گھر بہت یاد آتا تھا اور انھوں نے اپنے بچوں کو جاپانی زبان سکھائی۔‘
کینجی فوجیموتو، جو 1988 سے 2001 تک کم جونگ اِل کے لیے سوشی شیف رہے، نے اپنی کتاب میں لکھا کہ کم جونگ اُن ’جاپانی گانے اچھے گاتے تھے‘ اور ’جاپان کی ترقی یافتہ معیشت سے متاثر تھے۔‘
جاپانی میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ٹوکیو ڈزنی لینڈ بھی گئے تھے۔
گومی کے مطابق کو نے اپنے سیکریٹری کے ساتھ الگ الگ جاپان کے سفر بھی کیے۔
جانشینی
ریو ہیون وو، جو شمالی کوریا کے ایک جلاوطن سفارت کار ہیں، اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’کو یونگ ہوئی کو کبھی بھی کم اِل سنگ نے بہو کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔‘
سیجونگ انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر چیونگ سیونگ چانگ کے مطابق اگر کو کو کم اِل سنگ کی منظوری حاصل ہو جاتی تو کم اِل سنگ اور ان کے پوتے جونگ اُن کی تصاویر بڑے پیمانے پر پھیلائی جاتیں۔
مگر ایسا نہ ہونے کے باوجود، کو نے کم جونگ اِل کا اعتماد حاصل کر لیا اور عملاً ملک کی ’فرسٹ لیڈی‘ کا کردار ادا کیا، اپنے شوہر کے ساتھ فوجی معائنوں پر جاتیں اور ان کے قریبی حلقے سے تعلقات بناتیں۔
فوجیموتو کے مطابق کم جونگ اِل پالیسی فیصلوں سے پہلے ان کی رائے بھی لیتے تھے۔
2011 میں کم جونگ اِل کی وفات کے بعد بنائی گئی ایک سرکاری دستاویزی فلم میں کو کو ان کے ساتھ دوروں پر دکھایا گیا، تاہم اس میں کبھی ان کا نام یا سونگ بُن ظاہر نہیں کیا گیا۔
یہ فلم عوامی طور پر جاری نہیں کی گئی بلکہ جون 2012 میں صرف سینئر پارٹی اہلکاروں کو دکھائی گئی، بعد میں یہ خفیہ طور پر عام لوگوں تک پہنچ گئی۔
ڈاکٹر چیونگ کے مطابق ’جیسے جیسے یہ پھیلی۔۔۔ لوگوں کا تجسس بڑھ گیا، لہٰذا حکومت نے فوراً اسے واپس لے لیا۔‘
ایک خاکہ جس میں شمالی کوریا کے حکمران خاندان کی چار نسلیں دکھائی گئی ہیں۔ اوپر کم اِل سنگ اور ان کی اہلیہ کم جونگ سوک، جبکہ دوسری سطح پر کم جونگ اِل، ان کی اہلیہ کم ینگ سوک اور دیگر مسٹریسز شامل ہیں۔ تیسری سطح پر ان کے بچوں کو دکھایا گیا ہے، جن میں کم جونگ اُن بھی شامل ہیں۔ نیچے ان کی بیٹی جوائے ہے۔ سادہ رکھنے کے لیے کچھ افراد شامل نہیں کیے گئےتو پھر ایک مسٹریس کے دوسرے بیٹے یعنی کم جونگ اِل کے سب سے چھوٹے بیٹے نے اقتدار کیسے سنبھالا؟
بہت سے سوانح نگاروں کا خیال ہے کہ کو نے فعال طور پر کم جونگ اُن کو جانشینی کے لیے تیار کیا۔ انا فیلڈ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ ان کی بہن نے انھیں بتایا کہ اسے اگلا رہنما بننا ہو گا ورنہ خاندان خطرے میں ہوگا۔
کم جونگ اِل کے بڑے بیٹے کم جونگ نام ابتدائی طور پر اس لیے نظر انداز ہو گئے کیونکہ وہ موروثی جانشینی کے ناقد تھے اور اصلاحات کے حامی تھے۔
وہ فرانسیسی اور انگریزی میں ماہر تھے اور غیر ملکی تعلیم اور کیسینوز کے بار بار دوروں اور پُرتعیش طرزِ زندگی کے باعث ایک رنگین مزاج شخصیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔
جونگ نام کی شمالی کوریا واپسی کے بعد بھی یہ افواہیں جاری رہیں کہ کو یونگ ہوئی اپنے بچوں کو جانشینی کے لیے تیار کر رہی ہیں۔ تاہم، سابق سفارت کار ریو کی ایک کتاب کے مطابق ان کے بڑے بیٹے جونگ چُل کو منشیات کی شدید لت کے باعث جانشینی کے لیے مسترد کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ جونگ چُل ایک بار علی الصبح ان کے دروازے پر آئے اور افیون کا مطالبہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کم جونگ اُن اپنے والد کے پسندیدہ بن گئے کیونکہ ان میں قیادت کی صلاحیت اور مسابقتی مزاج تھا۔
کو کی بہن اور بہنوئی کو سوئٹزرلینڈ میں تعلیم کے دوران کم جونگ اُن اور ان کے بھائی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی گئی۔
لیکن یہ جوڑا 1998 میں امریکہ فرار ہو گیا، جب کو میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص ہوئی۔ 2016 کے ایک واشنگٹن پوسٹ کے مضمون، جس میں ان کا انٹرویو کیا گیا تھا، کے مطابق انھیں خدشہ تھا کہ ’انھیں زیادہ دیر تک ریاستی نظام کے لیے ضروری نہیں سمجھا جائے گا۔‘
اگرچہ کم جونگ اُن بالآخر جانشین بن گئے، لیکن ان کے خدشات کسی حد تک درست ثابت ہوئے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کے ایک چچا کو سزائے موت دی گئی جبکہ جونگ نام کو ملائیشیا میں قتل کر دیا گیا۔
’شکوک کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلا دو‘
کو یونگ ہوئی 2004 میں فرانس میں چھاتی کے کینسر کے باعث وفات پا گئیں۔کو کی موت کم جونگ اِل سے پہلے ہوئی، مگر پیریس کے ایک ہسپتال میں ان کی وفات کا شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا میں ذکر نہیں کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کم جونگ اُن کے خفیہ خاندانی پس منظر کی وجہ سے ان کی سالگرہ کو قومی تعطیل قرار نہیں دیا گیا، جیسا کہ ان کے دادا اور والد کے ساتھ ہوا۔
ان کی پیدائش پر توجہ دینے سے ان کی والدہ کے بارے میں سوالات اٹھ سکتے ہیں اور یہ بھی کہ انھیں پیانگ یانگ سے باہر کیوں پالا گیا۔
ایک محقق کے مطابق ’حقیقت سامنے آنے سے شکوک جنگل کی آگ کی طرح پھیل سکتے ہیں۔‘
اگرچہ وہ شمالی کوریا کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہیں، مگر سونگ بُن کے لحاظ سے ان کا مقام نسبتاً کم سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے تعلقات زائنیچی کوریئنز اور منحرف افراد سے جڑے ہیں۔
ڈاکٹر چیونگ کے مطابق کم جونگ اُن کی خاندانی راز داری کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انھوں نے اقتدار کے آغاز میں اپنی اہلیہ ری سول جو کو عوام کے سامنے پیش کیا اور اب بظاہر اپنی بیٹی جوائے کو مستقبل کے جانشین کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی انٹیلیجنس سروس کے مطابق ایک باوقار ثقافتی گروپ کی سابق گلوکارہ، ری کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پیانگ یانگ کے ایک اعلیٰ متوسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ان کے والد ایک یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔ انھیں ریاست کی جانب سے چین میں کلاسیکی گائیکی کی تعلیم کے لیے بھیجا گیا جو اچھے سونگ بُن کی علامت ہے۔
لیکن کیا کم جونگ اُن کبھی اپنی والدہ کے پس منظر کو ظاہر کریں گے؟
یہ کام شاید شمالی کوریا کی پروپیگنڈا مشینری کے لیے بھی ایک چیلنج ہوگا۔