امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیل نے آذربائیجان سمیت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں خفیہ فوجی اور انٹیلیجنس اڈوں کا ایک وسیع نیٹ ورک استعمال کیا۔
امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ایلیٹ فورسز، کمانڈو یونٹس اور موساد کے اہلکار شمالی ایران پر نظر رکھنے، انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے اور ڈرون آپریشنز کے لیے آذربائیجان کے جنوبی علاقوں میں ایرانی شہر تبریز سے محض 60 میل دوری پر قائم خفیہ اڈوں سے آپریٹ کر رہے تھے۔ ان اڈوں سے ہونے والے آپریشنز میں 4 مارچ کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس سربراہ رحمان مقدم کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا، جس کے اگلے ہی روز آذربائیجان کے نخچیوان ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ ہوا۔
دوسری جانب امریکا میں آذربائیجان کے سفارت خانے نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ آذربائیجان کے علاوہ اسرائیل نے عراق، متحدہ عرب امارات اور صومالی لینڈ میں بھی خفیہ تنصیبات قائم کر رکھی تھیں، جن کا مقصد اسرائیلی فوج کی آپریشنل رسائی کو سیکڑوں میل تک بڑھا کر ایران کو تینوں اطراف سے گھیرنا تھا۔
عراق میں لاجسٹک اور سرچ اینڈ ریسکیو کے لیے دو خفیہ اڈے استعمال کیے گئے، صومالی لینڈ نے طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے ہوائی اڈہ فراہم کیا، جبکہ متحدہ عرب امارات میں خاموشی سے آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام اور اس کا عملہ تعینات کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ابتدا میں ان مقامات کو صرف ہنگامی امدادی مراکز کے طور پر منصوبہ بند کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں باقاعدہ فوجی اور انٹیلیجنس مراکز میں تبدیل کردیا گیا۔