آزاد کشمیر میں 9 جون کو عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومتِ آزاد کشمیر نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے وفاقی حکومت سے اضافی نفری فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، جسے منظور کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل نے چیف سیکریٹری کو ارسال کیے گئے خط میں پاکستان سے مجموعی طور پر 14 ہزار اہلکاروں کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔ مجوزہ نفری میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 6 ہزار، رینجرز کے 5 ہزار، اسلام آباد پولیس کے 2 ہزار اور سندھ پولیس کے ایک ہزار اہلکار شامل ہیں۔ یہ اہلکار 7 جون سے 21 جون تک مختلف علاقوں میں تعینات رہیں گے۔
دستاویزات کے مطابق تعینات کی جانے والی نفری میں 60 فیصد اہلکار اینٹی رائٹ سازوسامان سے لیس ہوں گے، جبکہ 40 فیصد اہلکار اسلحہ کے ساتھ فرائض سرانجام دیں گے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس کے 1500 سے زائد اہلکار بھی آزاد کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خصوصی ڈیوٹی کے لیے ایک ڈی آئی جی، دو ایس ایس پیز اور چار ایس پیز بھی نفری کے ہمراہ تعینات کیے جائیں گے۔
سیکیورٹی دستے میں 8 ڈی ایس پیز، 16 انسپکٹرز، 22 سب انسپکٹرز، 70 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز اور ایک ہزار 382 کانسٹیبلز شامل ہوں گے۔ اضافی نفری سی ٹی ڈی، سی پی سی، سیف سٹی، سیکیورٹی اور آپریشنز ڈویژن سمیت مختلف شعبوں سے فراہم کی جائے گی، جبکہ لاجسٹک ڈویژن، اسلام آباد ٹریفک پولیس، اے ٹی ایس اور اسپیشل برانچ کے اہلکار بھی سیکیورٹی فرائض انجام دیں گے۔
حکام کے مطابق نفری کی تعیناتی کا مقصد احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔