پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے ملکی ہاکی کے فروغ اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پاکستان انڈر 18 ٹیم کی حالیہ بین الاقوامی مہم کا جامع تکنیکی اور شماریاتی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پی ایچ ایف نے ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مبنی ایک مفصل تجزیاتی رپورٹ فوری طور پر ایڈہاک کمیٹی کو پیش کریں۔
اس اقدام کا مقصد قومی ہاکی کے ڈھانچے میں سفارش اور ذاتی پسند ناپسند کے کلچر کا خاتمہ کر کے مکمل طور پر 'ڈیٹا اور ہائی پرفارمنس' پر مبنی نظام متعارف کرانا ہے۔ فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ جدید دور کی ہاکی میں مسلسل جانچ اور سائنسی تجزیے کے بغیر بین الاقوامی سطح پر فتوحات ممکن نہیں، اسی لیے کھلاڑیوں کی ترقی، کوچنگ، فٹنس اور حکمت عملی کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایڈہاک کمیٹی کو پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں میچز کے دوران سامنے آنے والے تمام تکنیکی پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا، جس میں پنالٹی کارنرز کو گول میں تبدیل کرنے کی شرح، حریف ٹیم کے پنالٹی کارنرز کے خلاف دفاعی حکمت عملی، میچ کے دوران گول کرنے کے ضائع ہونے والے مواقع کی تکنیکی وجوہات اور دفاعی غلطیوں کا جائزہ شامل ہے۔ اس جائزے کا ایک بڑا مقصد مستقبل کے سینئر دستے کے لیے باصلاحیت کھلاڑیوں کا انتخاب ہے۔ رپورٹ میں ہر کھلاڑی کے انفرادی فٹنس لیول کا جائزہ لے کر غیر معمولی صلاحیت کے حامل کھلاڑیوں کی نشاندہی کی جائے گی تاکہ انہیں مستقبل کے طویل المیعاد پروگراموں، خصوصی تربیتی کیمپوں، ٹارگٹڈ کوچنگ اور بین الاقوامی دوروں کا حصہ بنایا جا سکے۔
پی ایچ ایف حکام نے انڈر 18 ٹیم کے کھلاڑیوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو تیاری کے لیے انتہائی کم وقت ملا تھا، اس کے باوجود نوجوان کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر بہترین تجربہ حاصل کیا، تاہم فیڈریشن ہر میچ اور ہر ٹورنامنٹ کو ایک سبق کے طور پر دیکھتی ہے تاکہ مستقبل میں ان غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔
فیڈریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ جائزہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ایچ ایف ہر سطح پر کارکردگی کی نگرانی کر رہی ہے اور ہاکی میں جوابدہی اور احتساب کا کلچر لانا چاہتی ہے۔ فیڈریشن کا واحد ہدف پاکستان کو دوبارہ عالمی ہاکی کی سپر پاور بنانا ہے، جس کے لیے گراس روٹ سے لے کر ایلیٹ لیول تک اصلاحات کا عمل بلا تعطل جاری رہے گا۔