آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام، ٹیکس نظام میں شفافیت اور حکومتی محصولات میں اضافے کے لیے اہم اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق روزمرہ استعمال کی 20 مختلف کیٹیگریز کی اشیا کو سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے پر غور جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات کو تھرڈ شیڈول کا حصہ بنانے سے حکومت کو سالانہ تقریباً 60 ارب روپے اضافی سیلز ٹیکس وصول ہونے کی توقع ہے۔ اس وقت ان اشیا پر سیلز ٹیکس معیاری شرح کے مطابق لاگو ہے، تاہم تھرڈ شیڈول میں شمولیت کے بعد پیکنگ پر مصنوعات کی قیمت اور وصول کیے جانے والے سیلز ٹیکس کی رقم واضح طور پر درج کرنا لازمی ہوگا۔
مجوزہ فہرست میں ڈیری مصنوعات نمایاں ہیں، جن میں ڈبہ بند دودھ، دہی، پنیر، ملک کریم اور ٹی کریم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کی نرم غذائیں، دلیہ جات اور مختلف فوڈ سپلیمنٹس کی پیکنگ پر بھی قیمت اور سیلز ٹیکس کی تفصیلات شائع کرنا لازمی قرار دیے جانے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق فروزن فوڈز، جن میں فروزن کباب، فروزن نگٹس اور دیگر تیار شدہ غذائی مصنوعات شامل ہیں، انہیں بھی تھرڈ شیڈول میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ذاتی استعمال کی اشیا جیسے ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، شیونگ کریم، شیونگ فوم اور شیونگ برش پر بھی قیمت اور سیلز ٹیکس کی تفصیلات درج کرنا لازمی بنانے کی تجویز زیر غور ہے۔
مجوزہ اقدامات کے تحت پالتو جانوروں کی خوراک کو بھی تھرڈ شیڈول کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ متعدد الیکٹرانک مصنوعات کو بھی اس فہرست میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ ان میں ایل ای ڈی ٹی وی، فریج، واشنگ مشینیں، جوسرز، ایئر کنڈیشنرز، روم کولرز اور پنکھے شامل ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گھریلو گیس آلات، جن میں چولہے، گیزر، کوکنگ رینج اور دیگر گیس اپلائنسز شامل ہیں، انہیں بھی تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا بنیادی مقصد مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکس کی وصولی کے نظام میں شفافیت لانا، انڈر انوائسنگ اور ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی کرنا اور قومی محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔ تاہم ان تجاویز کے حوالے سے حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد سامنے آئے گا۔