پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال: 10 سے 12 ہزار مظاہرین ڈھریک عیدگاہ پر موجود ہیں، کمشنر راولاکوٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آج (بدھ) کے روز بھی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ ضلع میرپور سے چلنے والا مظاہرین کا بڑا قافلہ اس وقت راولا کوٹ سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ڈھریک عید گاہ کے مقام پر موجود ہیں۔
تصویر
Reuters

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آج (بدھ) کے روز بھی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ ضلع میرپور سے چلنے والا مظاہرین کا بڑا قافلہ اس وقت راولا کوٹ سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ڈھریک عید گاہ کے مقام پر موجود ہیں۔

بدھ کے روز راولا کوٹ میں دن بھر مساجد سے ہونے والے اعلانات میں عوام کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی جاتی رہی ہے۔

مظفر آباد کے علاوہ کشمیر کے بڑے اضلاع بشمول باغ، میرپور، راولا کوٹ اور کوٹلی میں آج دوسرے روز بھی کاروباری مراکز، پبلک ٹرانسپورٹ، بینک اور پیٹرول پمپس بند رہے جبکہ سڑکوں پر عام ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔ اگرچہ کشمیر میں سرکاری دفاتر کُھلے ہوئے تھے تاہم اُن میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔

یاد رہے کہ حال ہی میں کشمیر حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

ایکشن کمیٹی کے مطابق احتجاج کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک یہ مطالبہ منظور نہیں ہو جاتا۔ اس احتجاج کے پیش نظر کشمیر بھر میں صورتحال کشیدہ ہے اور ممکنہ امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاق کی جانب سے اضافی نفری کشمیر میں تعینات کی گئی ہے۔

ضلع پونچھ کے کمشنر سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایکشن کمیٹی کے مظاہرین راولاکوٹ سے چار کلومیٹر دور ڈھریک عید گاہ کے قریب موجود ہیں اور سرکاری اندازے کے مطابق اُن کی تعداد دس سے بارہ ہزار کے درمیان ہے

انھوں نے کہا کہ مظاہرین کا یہ قافلہ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے میرپور سے چلا تھا، اور راستے میں دیگر قافلے میں اس میں شامل ہوتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ ہجیرہ میں بھی جو تین ہزار کے قریب مظاہرین موجود تھے وہ راولا کوٹ پہنچنے والے بڑے قافلے میں شامل ہو چکے ہیں۔

کمشنر نے کہا کہ فی الحال یہ مظاہرین راولاکوٹ میں داخل نہیں ہو رہے بلکہ شہر سے چار کلومیٹر دور موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے رینجرز اور ایف سی کے اہلکار شہر میں گشت کر رہے ہیں جبکہ شہر کے باسیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں سے نہ نکلیں۔

انھوں نے کہا کہ شہر میں کرفیو جیسی صورتحال اُس وقت تک برقرار رہے گی جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ سردا ر وحید خان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو مظفر آباد جانے کے لیے راولاکوٹ سے نہیں گزرنے دیا جائے گا اور قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے گا۔

اس سے قبل ڈپٹی کمشنر پونچھ ممتاز کاظمی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ راولا کوٹ کی مساجد سے ’کرفیو کے نفاذ‘ کے اعلانات کی اطلاعات اُن کے نوٹس میں آئی ہیں، تاہم سرکاری طور پر اس حوالے سے تاحال کوئی نوٹیفکیشن نہیں جاری کیا گیا ہے۔

احتجاج کے پیش نظر کشمیر بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور ریاستی دارالحکومت مظفر آباد اور راولا کوٹ میں ہیلی کاپٹر علی الصبح سے فضاؤں میں نگرانی کی غرض سے پروازیں کرتے رہے ہیں۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب کوٹلی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی پُرتشدد جھڑپ میں کم از کم تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

کوٹلی سے پولیس اہلکار راجہ حبیب نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کالعدم تنظیم (ایکشن کمیٹی) سے تعلق رکھنے والے افراد لانگ مارچ میں شرکت کے لیے میرپور کی طرف جا رہے تھے جب راستے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔

انھوں نے کہا کہ اسی دوران ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ 20 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ اُن کے مطابق زخمی ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ڈی ایس پی کوٹلی چوہدری شہزاد نے بی بی سی اُردو کو بتایا تھا کہ گذشتہ رات اُن کے اہلخانہ میں یہ افوہ پھیل گئی کہ وہ ایک جھڑپ میں وہ زخمی ہوئے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ اطلاع ملنے پر اُن کا بھتیجا انھیں ڈھونڈتے ہوئے کوٹلی ہسپتال پہنچا تو اسی دوران وہاں ہونے والی جھڑپ کے دوران وہ گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔

ڈی ایس پی کوٹلی نے اس جھڑپ میں اپنے بھتیجے کے علاوہ ایک اور شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی۔

اس علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک حکومتی وزیر نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کم از کم تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے میر پور ڈویژن کے کمشنر طاہر ممتاز نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے بارے میں تفصیلات محکمہ داخلہ جاری کرے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل راولا کوٹ میں سی ایم ایچ کے سامنے مظاہرین اور پولیس میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں، چار پولیس اہلکار اور پانچ مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم بعدازاں کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد تین ہے جو 'اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ' سے ہلاک ہوئے تاہم ایکشن کمیٹی نے اس کی تردید کرتے ہوئے پولیس پر پرامن احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے کا الزام عائد کیا تھا۔

راولا کوٹ میں کم از کم پانچ مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کمشنر راولا کوٹ سردار وحید خان نے بھی کی تھی۔

تصویر
BBC
مظفر آباد سمیت کشمیر کے مختلف اضلاع میں کاروباری مراکز آج دوسرے روز بھی بند ہیں

دوسری جانب راولاکوٹ کے مقامی صحافی جنید کے مطابق پولیس کی گاڑیوں میںلگے ہوئے لاؤڈسپیکر ز سےشہر بھر میں اعلاناتکروائے جا رہے ہیں جس میں شہریوں کو متنبہ کیا جا رہا کہ وہ دفعہ 144 (چار یا چار سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی) کی پابندی کریں اور بلاضرورت گھروں سے نہ نکلیں۔

دوسری جانب کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میںامن و امان کی صورتحال فی الحال نارمل ہے تاہم کاروباری مراکز، دکانیں، بینک، پیٹرول پمپس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہیں۔منگل کی شام مظفر آباد میں کھانے پینے کا سامان فروخت کرنے والی کچھ دوکانیں کھولی گئی تھیں اور لوگ بھی باہر نکلے تھے۔

شوکت نواز میر پر غداری کا مقدمہ اور گرفتاری میں مدد پر انعام کا اعلان

شوکت نواز میر
Getty Images

دوسری جانبمظفر آباد پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رُکن شوکت نواز میر کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے

مظفر آباد کے تھانہ سٹی پولیس کے مطابق متعلقہ عدالت سے آج ملزم (شوکت میر) کے گھر کا سرچ وارنٹ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی جبکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہے جو کہ مختلف علاقوں میں ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اُن مقدمات کا سٹیٹس بحال کرنے کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر رہی ہے جو کہ گذشتہ برس عوامی ایکشن کمیٹی کے سینکڑوں کارکنوں کے خلاف درج کیے گئے تھے تاہم حکومت اور کمیٹی کے درمیان معاہدہ ہونے کی صورت میں پراسیکوشن کی طرف سے ان مقدمات کو واپس لے لیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ منگل کی شام کشمیر کی حکومت نے ایکشن کمیٹی کے دو سرکردہ رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ شوکت نواز میر اور مہران ارشد کو 'اپنی تقاریر، تحریری مواد، ویڈیو و آڈیوز کے ذریعے بغاوت' کا ارتکاب کیا ہے جو کہ ایک قابل سزا جرم ہے۔

منگل ہی کے روز کشمیر حکومت نے شوکت نواز میر سمیت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا اعلان کیا تھا۔

ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، سردار امان اور خواجہ مہران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے افراد کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ مطلوب افراد کی موجودگی یا گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ریاض مغل نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کالعدم تنظیم کے مذکورہ ارکان اس وقت روپوش ہیں اور پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے۔

کشمیر میں احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟

Muzaffarabad
Getty Images

کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اسمبلی میں 'مہاجرین مقیم پاکستان' کی اِن 12 نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندوں کو متعدد بار کشمیر میں حکومت گرانے اور وزرائے اعظم کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ 'مقامی وسائل کے بے دریغ ضیاع میں مہاجرین کے نام پر پاکستان میں موجود 12 حلقوں کا ایک بڑا کردار ہے۔'

ایکشن کمیٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ 'ان حلقوں کو حکومت پاکستان ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتی ہے اور ان حلقوں کے ممبران کو عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان حلقہ جات کو فوری ختم کیا جائے اور وہ مہاجرین جو خطے کے اندر رہائش پذیر ہیں انھیں ہی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔'

جوائنٹ ایکشن کمیٹی ان سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے تاہم کشمیر میں موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ سیٹوں کا خاتمہ آئینی ترمیم ہی کے ذریعے ممکن ہے جس کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے اور یہ کہ اب یہ کام آئندہ منتخب ہونے والی اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ کشمیر میں اسمبلی الیکشن جولائی 2026 میں منعقد ہوں گے۔ کشمیر کی سپریم کورٹ بھی اس معاملے پر اسی رائے کا اظہار کر چکی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز نے گذشتہ دنوں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ کشمیر کے فنڈز کے باہر جانے اور (ان سیٹوں کے ذریعے) پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کی سیاست پر اثر انداز ہونے جیسے الزامات کسی حد تک درست ہیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اِن شکایات پر بات ہو سکتی ہے اور اِن کا حل نکالا جا سکتا ہے مگر سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے یہ کام ممکن نہیں۔

کشمیر حکومت کا الزام ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر عوام میں گمراہ کُن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے جس کا ہر صورت تدارک کیا جائے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US