’یہ بھتہ خوری کا کیس ہی نہیں تھا‘: کراچی بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں سزائے موت پانے والے ملزمان کی بریت اور لواحقین کے سوال

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مؤقف یہ تھا کہ سنہ 2013 میں مالکان نے اپنی جان بچانے کے لیے جھوٹی گواہی دی اور سارا الزام ایم کیو ایم پر ڈال دیا۔ یہ کہا گیا کہ ایم کیو ایم نے بھتہ مانگا تھا اور بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی گئی۔‘
Baldia Factory
AFP
بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگنے سے 250 افراد ہلاک ہو گئے تھے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی کی بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں سزائے موت پانے والے ملزمان عبدالرحمان عرف بھولا اور محمد زبیر عرفچریا کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزائیں کالعدم قرار دے دی ہیں اور انھیں اس کیس سے بری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ملزمان کی اپیلیں منظور کیں اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے ریمارکس حذف کرنے کی اپیل غیر مؤثر ہونے پر نمٹا دی اور قرار دیا کہ جب فیصلہ کالعدم ہو چکا تو ریمارکس ازخود ختم ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ واقعے کے آٹھ برس بعد 2020 میں کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اس کیس میں نامزد مرکزی ملزمان زبیر چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو سزائے موت جبکہ چار دیگر سہولت کاروں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعدازاں سندھ ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

عدالت عالیہ اور انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ فیکڑی میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اب یہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں حب ریور روڈ کے قریب واقع ڈینم فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو آگ بھڑک اٹھی تھی جس میں 260 مزدور جھلس کر ہلاک جبکہ 50 زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کے مطالبات کیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس شہزاد ملک نے اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو فریق بنانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر انھیں فریق بنایا گیا تو کل مزید 200 درخواستیں آ سکتی ہیں۔

Supreme Court of Pakistan
Getty Images

اس مقدمے میں نامزد ملزم رحمان بھولا کو انٹرپول کی مدد سے وفاقی تفتیشی ادارے (ایف آئی اے) نے بینکاک سے گرفتار کیا تھا جبکہ محمد زبیرعرف چریا کو سعودی عرب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا۔

سپریم کورٹ میں ملزمان اور ایم کیو ایم کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے پیروی کی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارا مؤقف یہ تھا کہ جب 2012 میں آگ لگی تو فیکٹری مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ الزام یہ تھا کہ انھوں نے تمام کھڑکیوں کو گرِل لگا کر بند کر دیا تھا اور تمام داخلی و خارجی راستے بند کر دیے تھے، سوائے ایک کے اس وجہ سے اندر موجود لوگ پھنس گئے تھے۔‘

فروغ نسیم کے مطابق ’مالکان نے تین سال تک کسی قسم کی شکایت نہیں کی کہ یہ کام ایم کیو ایم والوں نے کیا یا انھوں نے بھتہ مانگا۔ اچانک تین سال بعد انھیں یاد آیا کہ ایک ملزم رضوان قریشی، جو کسی اور مقدمے میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا تھا اور اس نے انکشاف کیا کہ فیکٹری کو ان لوگوں نے آگ لگائی تھی، جس کے بعد کارروائی شروع ہوئی۔‘

’کوئی جماعت اپنے ہی لوگوں کو کیوں نقصان پہنچائے گی‘

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مؤقف یہ تھا کہ سنہ 2013 میں مالکان نے اپنی جان بچانے کے لیے جھوٹی گواہی دی اور سارا الزام ایم کیو ایم پر ڈال دیا۔ یہ کہا گیا کہ ایم کیو ایم نے بھتہ مانگا تھا اور بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی گئی۔‘

’حالانکہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس فیکٹری میں کام کرنے والے زیادہ تر غریب، نچلے اور متوسط طبقے کے لوگ تھے اور ان میں سے اکثریت ایم کیو ایم کی حامی تھی۔ کوئی جماعت اپنے ہی لوگوں کو کیوں نقصان پہنچائے گی؟ ایم کیو ایم کا کبھی ایسا ریکارڈ نہیں رہا کہ وہ فیکٹریوں کو آگ لگاتی ہو۔‘

بیرسٹر فروغ نسیم کے مطابق ’سب سے اہم بات یہ تھی کہ جس شخص زبیر پرالزام تھا کہ اس نے فیکٹری جلائی، وقوعہ کے بعد مالکان نے اسی شخص کو دو سال تک اپنی دوسری فیکٹری میں ملازم رکھا۔‘

اس کیس میں فیصل صدیقی متاثرہ خاندانوں کی پیروی کر رہے تھے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فیصلے کو درست قرار دیا اور کہا کہ وہ یہی بات گزشتہ 14 سال سے کہتے آ رہے ہیں کہ یہ کوئی بھتہ خوری یا دہشت گردی کا کیس نہیں تھا۔

بقول ان کے ’اصل ایف آئی آر میں جو ملزمان تھے، وہ فیکٹری مالکان تھے، جن کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے اتنے لوگ مارے گئے تھے کیونکہ وہ جس طریقے سے فیکٹری چلا رہے تھے، اس میں آگ سے تحفظاور بچاؤ کے کوئی انتظامات نہیں تھے۔‘

مقدمے کے سیاسی پہلو پر بات کرتے ہوئے فیصل صدیقی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا کہ اس میں کسی سیاسی جماعت کا کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ ’یہ بھتہ خوری کا کیس ہی نہیں تھا اور چونکہ اس زمانے میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن چل رہا تھا تو پھر ہر چیز انہی کے کھاتے میں ڈال دی جاتی تھی۔‘

ایڈووکیٹ صدیقی کا یہ بھی کہنا تھا کہ فیکٹری مالکان اور کراچی کے دوسرے صنعت کاروں کو یہ خدشہ تھا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ کراچی اور پاکستان میں فیکٹریاں جس انداز سے چل رہی ہیں اور جن میں فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات موجود نہیں تو پھر تمام فیکٹریوں کی جانچ پڑتال شروع ہو جائے گی۔

’اس لیے شروع سے یہی مؤقف تھا کہ اس معاملے میں مالکان اور صنعتی لابی کا کردار تھا تاکہ الزام مالکان سے ہٹا کر کسی اور طرف منتقل کر دیا جائے۔‘

لیکن بلدیہ فیکٹری میں ہلاک ہونے والے محمد وسیم کی اہلیہ سعیدہ بی بی کہتی ہیں کہ ’یہ کیس سیاست کی نذر ہو گیا۔‘

بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے ’صرف ایک شخص نہیں بلکہ ہر گھر میں 10، 10 افراد کا مستقبل اور خوشیاں بھی نگل لی تھیں۔‘

سعیدہ بی بی کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں ’مالک کو بری الذمہ نہیں سمجھتیں۔ آگ لگی تھی یا لگائی گئی یہ تحقیقات مالک اور پولیس کو کرنی تھیں پر دونوں ناکام رہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اگریہ بھتے کی دھمکی کا معاملہ تھا تو فیکٹری بند کردیتے اور مزدوروں کو بتاتے کہ یہ حقیقت ہے۔‘

جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بھتے کا ذکر

واضح رہے کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ فیکٹری میں آگ حادثاتی طور پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت ’شر انگیزی اور دہشت گردی کی کارروائی تھی۔‘

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے کارکن رحمان بھولا اور حماد صدیقی کی طرف سے فیکٹری مکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری کی آمدن میں حصے دینے سے انکار پر آگ لگائی گئی۔

اس تحقیقاتی ٹیم میں ڈی آئی جی منیر شیخ، ڈی آئی جی سلطان خواجہ، ایس ایس پی ساجد سادھوزئی شامل تھے۔

اس رپورٹ کے مطابق ’آتشزدگی کے واقعے کے بعد مقدمے کا اندراج اور اس کے بعد تحقیقات نہ صرف بددیانتی پر مبنی تھیں بلکہ اس پر اندرونی اور غیر ضروری دباؤ تھا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’دہشت گرد کارروائی کو ایف آئی اے میں سادگی سے قتل کا معاملہ دکھایا گیا اور بعد میں اسے حادثے میں تبدیل کر دیا گیا۔ اور یہ اس جرم کرنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ فیکٹری مالکان اور اس کی انتظامیہ کے خلاف تھا۔‘

تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’جس انداز میں اس واقعے کی تحقیقات کی گئی ہیں اسے سے پولیس پر اثر و سوخ سے اس کی طرفداری اور جانبداری کے حد کا اندازہ ہوتا ہے۔‘

اس تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز دی گئی تھی کے ریاست اس واقعے کے بارے میں درج کی گئی ایف آئی آر واپس لے اور تعزیرات پاکستان کے دفعہ 1861 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دوبارہ مقدمہ درج کرائے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ٹیم نے محمد زبیر کے واقعے میں کردار کا معلوم کرنے کی کوشش کی کیونکہ تمام دستیاب شواہد اس جرم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

آتشزدگی کا مقدمہ ابتدائی طور پر علی انٹر پرائز فیکٹری کے مالکان عبدالعزیز بھائیلہ ان کے دو بیٹوں ارشد اور شاہد بھائی سمیت جنرل منیجر اور چار چوکیداروں پر غفلت کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

تاہم اس مقدمے نے اس وقت دوسرا رخ اختیار کیا جب سنہ 2015 میں رینجرز کی جانب سے ہائی کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پیش کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھتہ نہ ملنے پر فیکٹری کو آگ لگائی گئی تھی اس عمل کو دہشت گردی قرار دیا گیا۔

Baldia Town
BBC

سنہ 2016 میں دوبارہ تحقیقات کے بعد پولیس نے دوبارہ مقدمہ درج کیا، اسی سال کے آخر میں سیکٹر انچارج ایم کیو ایم رحمان بھولا کو بیرون ملک سے گرفتار کر کے لایا گیا۔

یہ جے آئی ٹی واقعے کے ڈھائی برس بعد یعنی جون 2015 میں بنائی گئی تھی اور تقریبا پانچ برس بعد رواں سال منظر عام پر آئی۔

جے آئی ٹی کے سامنے علی انٹرپرائز کے مالکان ارشد بھائیلہ اور شاہد بھائیلہ نے دبئی میں بیان ریکارڈ کروایا کیونکہ دونوں بھائی اس واقعہ کے چند ماہ بعد دبئی منتقل ہو گئے تھے۔

بیان کے مطابق واقعے سے دو تین ماہ قبل مئی، جون سنہ 2012 کو شاہد بھائیلہ نے ایم کیو ایم بلدیہ سیکٹر کے انچارج اصغر بیگ کے بھائی ماجد بیگ سے پروڈکشن منیجر منصور کے دفتر میں ملاقات کی تھی اور بھتہ طلب کیا تھا۔

یہ مقدمہ کراچی کی ایک انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں چلایا گیا اور آٹھ برس بعد عدالت نے سناتے ہوئے کیس میں نامزد مرکزی ملزمان زبیر چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو سزائے موت جبکہ چار دیگر سہولت کاروں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

اس کیس میں نامزد چار دیگر ملزمان رؤف صدیقی، اقبال ادیب خانم، عمر حسن قادری، عبدالستار کو عدم شواہد کی بنا پر بری کر دیا گیا، اس کے علاوہ شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد کو عمر قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔

علی انٹرپرائیز نامی اس فیکٹری میں آتش زنی کے مقدے میں ایم کیو ایم کے سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی، کراچی تنظیم کے سربراہ حماد صدیق، ایم کیو ایم کے اس وقت کے سیکٹر انچارج عبدالرحمان عرف بھولا، زبیر چریا، حیدرآباد کے تاجر ڈاکٹر عبدالستار خان، عمر حسن قادری، اقبال ادیب خانم، فیکٹری کے چوکیدار شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد کو ملزم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ فیکڑی میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی تھی۔

ملزمان نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، ہائی کورٹ نے عدالت نے عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کی سزاۓ موت کے خلاف اپیلیں مسترد کر دیں ہیں تاہم عمر قید پانے والے چاروںملزمان کی اپیلیں منظور کر لیں گئیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US