اسلام آباد: رواں مالی سال 2025-26 کی اقتصادی کارکردگی پر مشتمل اقتصادی سروے آج جاری کیا جائے گا، جسے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اپنی معاشی ٹیم کے ہمراہ میڈیا کے سامنے پیش کریں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اقتصادی سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) سمیت متعدد اہم معاشی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے، تاہم ترسیلات زر، خدمات کے شعبے اور لائیو اسٹاک سیکٹر نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اہداف حاصل کیے۔
ذرائع کے مطابق ملکی جی ڈی پی کی شرح نمو 4.2 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) بھی اس سے قبل کم شرح نمو کی پیش گوئی کر چکے ہیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق لائیو اسٹاک شعبے نے معیشت میں مثبت کردار ادا کیا، جہاں بھینسوں، گائیوں، بکریوں، بھیڑوں، اونٹوں، گھوڑوں، خچروں اور گدھوں کی تعداد میں مجموعی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے اس شعبے کی ترقی کی عکاسی ہوتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فی کس آمدن، زرعی اور صنعتی شعبوں کی ترقی کے اہداف بھی مکمل نہیں ہو سکے۔ زرعی شعبے کی عبوری شرح نمو 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 2.89 فیصد جبکہ صنعتی شعبے کی ترقی 4.30 فیصد ہدف کے برعکس 3.51 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں اوسط مہنگائی 7.50 فیصد کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں 11 ماہ کے دوران 7 فیصد رہی، تاہم مئی کے مہینے میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.66 فیصد تک پہنچ گئی۔
فی کس آمدنی کا سالانہ ہدف 5 لاکھ 60 ہزار 803 روپے مقرر کیا گیا تھا، لیکن اس کے 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ البتہ امریکی ڈالر کے حساب سے فی کس آمدنی تقریباً 150 ڈالر اضافے کے بعد 1901 ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اگرچہ بعض بڑے معاشی اہداف حاصل نہیں ہو سکے، تاہم ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ اور خدمات کے شعبے کی بہتر کارکردگی کو معیشت کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔