مالیاتی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جس کے تحت مجموعی بجٹ کا حجم 17.5 ٹریلین روپے تجویز کیا گیا ہے۔
نئے مالیاتی سال کے لیے معاشی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد، اوسط مہنگائی 8.2 فیصد اور ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نان ٹیکس ریونیو 2768 ارب روپے، پیٹرولیم لیوی 1 ہزار 727 ارب روپے جبکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم 1000 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے اور دفاعی شعبے کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شعبہ جات کی نمو کے حوالے سے زرعی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد، صنعتی ترقی 4 فیصد، بڑی صنعتیں 4.5 فیصد اور خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت ملک میں روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے جن میں خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ، صنعتی شعبے میں 5 لاکھ اور زرعی شعبے میں 4 لاکھ ملازمتیں شامل ہیں۔
بجٹ میں تجارتی اور بیرونی شعبے کے اہداف کے مطابق گڈز برآمدات 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات 70 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے، جس سے تجارتی خسارے کا ہدف 37 ارب ڈالر رہے گا۔
ترسیلاتِ زر کا ہدف 42.38 ارب ڈالر، خدمات کی برآمدات 11.27 ارب ڈالر اور خدمات کی درآمدات 13.76 ارب ڈالر تجویز کی گئی ہیں، جس کے بعد مجموعی برآمدات 44.13 ارب ڈالر اور مجموعی درآمدات 83.78 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ منفی 0.7 فیصد یعنی 3.6 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے۔ حکومت نے قومی بچت کا ہدف 14.3 فیصد اور سرمایہ کاری کا ہدف 15 فیصد مقرر کیا ہے۔
وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے 1000 ارب روپے کے مجموعی حجم میں سے وزارتوں کے لیے 687 ارب روپے اور سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے لیے 451 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
شعبہ وار تقسیم کے تحت ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے لیے 356 ارب روپے، کارپوریشنز کے لیے 313 ارب روپے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے لیے 224.51 ارب روپے، سماجی شعبے کے لیے 180 ارب روپے اور انفراسٹرکچر کے لیے 116.2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ آبی وسائل کے لیے 103 ارب روپے، خصوصی علاقوں کے لیے 88.8 ارب روپے، پاور ڈویژن کے لیے 88 ارب روپے، ارکانِ پارلیمنٹ کے فنڈز کے لیے 63 ارب روپے، خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے 56.1 ارب روپے اور فزکل پلاننگ و ہاؤسنگ کے لیے 54.6 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایچ ای سی کے لیے 46 ارب روپے، وفاقی تعلیم کے لیے 36 ارب روپے، سائنس و آئی ٹی کے لیے 41.4 ارب روپے، صحت کے لیے 22.1 ارب روپے، گورننس کے لیے 13 ارب روپے، انڈسٹریز کے لیے 8 ارب روپے، خوراک و زراعت کے لیے 4.6 ارب روپے اور سی پیک ٹو کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔