حکومت نے وفاقی بجٹ میں سپر ٹیکس کے حوالے سے انتہائی اہم فیصلے کیے ہیں، جس کے تحت بینکس، تیل و گیس تلاش کرنے والی اور فرٹیلائزر کمپنیوں پر سپر ٹیکس کو برقرار رکھا گیا ہے، تاہم دیگر کئی شعبوں کو بڑا ریلیف فراہم کردیا گیا ہے۔
نئے فیصلوں کے مطابق، 15 سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدنی والی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے، اس سے قبل ان کمپنیوں پر 7 سلیبس میں 1 سے 7 فیصد تک سپر ٹیکس لاگو تھا۔ اس کے ساتھ ہی، 50 کروڑ روپے سے زائد سالانہ آمدنی والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس کی شرح میں 2 فیصد کمی کردی گئی ہے، جس کے بعد اب ان کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے۔
حکومت کے اس اقدام کے باعث آئل مارکیٹنگ، سیمنٹ، اسٹیل، کیمیکل، انرجی، پاور اور دیگر اہم شعبوں کی کمپنیاں سپر ٹیکس ریلیف کی حامل قرار پائی ہیں۔
معاشی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سپر ٹیکس کے خاتمے اور اس کی شرح میں کمی سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ کمپنیوں کو بہت بڑا مالی فائدہ پہنچے گا، جبکہ اس فیصلے کے باعث اسٹاک مارکیٹ پر بھی انتہائی مثبت اور خوش آئند اثرات مرتب ہوں گے۔