ایرانی سرکاری میڈیا نے ان شرائط کی تفصیل دینا شروع کر دی ہے جن پر تہران امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے میں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ ان رپورٹس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو رد کیا گیا ہے کہ معاہدہ قریب ہے اور کہا گیا ہے کہ حتمی متن ابھی منظور نہیں ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ اتوار کو طے پا جائے گا جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اب تک امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے وقت کا تعین نہیں کیا گیا، لیکن آنے والے دنوں میں اس کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ’دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے تاہم آنے والے دنوں میں دستخط ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔‘
دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی مفاہمی یادداشت میں ایرانی شرائط واضح کی گئی ہیں جنھیں ایران میں ’ریڈ لائن‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق مجوزہ فریم میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو کھولنے اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی کو ترجیح دی گئی ہے۔
ارنا کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں جوہری مذاکرات کو بعد کے مراحل تک مؤخر کیا گیا ہے۔
کیا بات چیت ہو رہی ہے؟
ایران کی سرکاری خبر ایجنسی ’ارنا‘ نے 12 جون کو یہ کہتے ہوئے کہ حتمی متن دونوں فریقوں کی باضابطہ منظوری سے پہلے جاری نہیں کیا جائے گا، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ مفاہمتی یادداشت سے متعلق قیاس آرائیوں پر محتاط ردِعمل دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے 12 جون کو ایک مغربی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جنیوا میں اتوار کے روز اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو سکتے ہیں، تاہم مفاہمتی یادداشت کے متن کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
سنیچر کو اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران ابھی کسی بھی معاہدے پر ’حتمی نتیجے‘ تک نہیں پہنچا اور متعلقہ ایرانی اداروں کے جائزے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے مجوزہ یادداشت کا متن شائع نہیں کیا، لیکن کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں گردش کرنے والی دستاویزات ’گمراہ کن‘ ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ نے مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے 14 نکاتی مسودہ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات شائع کی تھیں۔
اس فہرست میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، بشمول لبنان، 30 دن کے اندر ’ایرانی انتظامات‘ کے ساتھ آبنائے ہرمز کی دوبارہ کھولنا، منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی اور 60 دن میں ایسی بات چیت شامل تھی جو صرف جوہری امور، پابندیوں اور جنگ کے بعد معاوضے یا تعمیرِ نو تک محدود ہو۔
جوہری فائل کا کیا مستقبل ہے؟
’ارنا‘ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں مفاہمی یادداشت کو دو مرحلوں پر مشتمل انتظام قرار دیا گیا ہے۔
- تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ
- 60 روزہ مذاکرات جس کا محور جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور جنگی نقصانات کے معاوضے سے متعلق ہو۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہتہران ابتدائی مفاہمتی یادداشت میں جوہری معاملات پر کوئی وعدہ نہیں کرے گا اور اگر متن پر دستخط ہو گئے تو ایران کا پرامن جوہری پروگرام تبدیل نہیں ہو گا۔
ارنا کے مطابق بعد کی کسی بھی بات چیت کو ایران کے طے کردہ ’بنیادی اصولوں‘ کے تحت کیا جائے گا، جن میں افزودگی کا حق اور اسلامی جمہوریہ کے پاس افزودہ مواد کو برقرار رکھنا شامل ہے۔
ارنا کا مؤقف اسرائیلی پوزیشن سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ کسی مفاہمتی یادداشت کا فریق نہیں ہے اور وہ چاہتا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں افزودہ مواد کو ہٹانے، افزودگی کے ڈھانچے کا خاتمہ، میزائل پیداوار پر پابندیاں اور خطے میں مسلح گروہوں کے لیے ایرانی حمایت کا خاتمہ شامل ہو۔
آبنائے ہرمز اور لبنان کیوں اہم ہیں؟
آبنائے ہرمز ایرانی مؤقف میں ایک اور اہم نکتہ ہے۔
ارنا نے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ تہران آبی گزرگاہ کے انتظام کو حوالے کر دے گا یا انتظامات کو جنگ سے پہلے کی حالت پر واپس لے جائے گا۔
اس نے کہا کہ مسودہ صرف جنگ کے بعد سمندری آمدورفت کی معمول پر واپسی، ساحلی ریاستوں کی جانب سے سکیورٹی کی فراہمی اور اس بات کے خاتمے کا ذکر کرتا ہے جسے تہران امریکہ کی غیر قانونی ناکہ بندی اور تجارتی جہازرانی کے لیے خطرات قرار دیتا ہے۔
’روئٹرز‘ کے مطابق ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو ممکنہ معاہدے کا ایک اہم نتیجہ قرار دیا ہے۔
اس نے ایک سینئر ایرانی ذریعے کے حوالے سے کہا کہ اس دستاویز کے تحت تیل پر پابندیاں ختم ہوں گی، اربوں ڈالر کے ایرانی فنڈز منجمد حالت سے آزاد کیے جائیں گے اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی روکنا لازم ہو گا۔
اسی کا ذکر کرتے ہوئے ارنا نے لکھا کہ رپورٹ کردہ مسودے میں لبنان کا واضح ذکر ہے، جس میں صرف جنگ بندی میں توسیع نہیں بلکہ جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کون سے عوامل معاہدے کو پٹڑی سے اتار سکتے ہیں؟

تفصیلی رپورٹس کے باوجود ایرانی مؤقف محتاط دکھائی دیتا ہے۔
بقائی نے واشنگٹن پر بار بار مؤقف بدلنے اور نئے ’غیر معقول‘ مطالبات پیش کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ ارنا نے کہا کہ حتمی متن اب بھی ایران کے فیصلہ ساز اداروں کی منظوری سے مشروط ہے۔
سرکاری خبررساں ادارے نے یہ بھی کہا کہ ممکنہ مفاہمتی یادداشت کو امریکہ کے حوالے سے ’مکمل شکوک‘ کے تحت جانچا جا رہا ہے، اور کسی بھی دستخط کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ تہران واشنگٹن پر اعتماد کرتا ہے یا اپنی عسکری تیاری میں کمی لائے گا۔
رپورٹ کردہ شرائط کو بیرونی رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔
’ارنا‘ کی رپورٹ پر فوری امریکی ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ اسرائیل کہہ چکا ہے کہ وہ اس مفاہمتی یادداشت کا فریق نہیں ہے۔
اس سے مجوزہ معاہدہ سیاسی اور عملی طور پر کمزور دکھائی دیتا ہے، چاہے دستخط کی تقریب ہو بھی جائے۔
تہران اس مسودے کو جنگ کے خاتمے کے ایسے انتظام کے طور پر پیش کر رہا ہے جو اس کی سرخ لکیروں کو برقرار رکھتا ہے اور مشکل ترین جوہری سوالات کو مؤخر کرتا ہے، جنھوں نے ابتدا میں اس تنازع کو جنم دیا تھا۔
اس کے برعکس ٹرمپ اسے ایک ایسے تقریباً حتمی تصفیے کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا۔