وفاقی حکومت کے مجوزہ بجٹ 2026-27 کی منظوری کے بعد یکم جولائی سے نئے مالی سال کا آغاز ہوگا، جس کے ساتھ ہی تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی نئی شرحیں بھی نافذ العمل ہوجائیں گی۔ بجٹ میں مختلف آمدنی والے افراد کے لیے ٹیکس سلیب میں ردوبدل کرتے ہوئے کئی درجوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ ٹیکس نظام کے تحت ماہانہ 50 ہزار روپے تک آمدنی رکھنے والے افراد انکم ٹیکس سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گے، جبکہ ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے والوں پر ایک فیصد انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا، جس کے تحت انہیں ایک ہزار روپے ماہانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق 50 ہزار ایک روپے سے ایک لاکھ روپے تک آمدنی پر ایک فیصد ٹیکس لاگو ہوگا، جبکہ ایک لاکھ ایک روپے سے ایک لاکھ 83 ہزار 333 روپے تک آمدنی رکھنے والے افراد 500 روپے کے علاوہ ایک لاکھ روپے سے زائد رقم پر 11 فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔
اسی طرح ایک لاکھ 83 ہزار 334 روپے سے دو لاکھ 66 ہزار 667 روپے تک ماہانہ آمدنی پر 9 ہزار 667 روپے کے علاوہ اضافی رقم پر 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ دو لاکھ 66 ہزار 668 روپے سے تین لاکھ 41 ہزار 667 روپے تک آمدنی رکھنے والوں کو 26 ہزار 333 روپے کے ساتھ اضافی رقم پر 25 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔
تین لاکھ 41 ہزار 668 روپے سے چار لاکھ 46 ہزار 667 روپے تک آمدنی پر 45 ہزار 83 روپے کے علاوہ اضافی رقم پر 29 فیصد ٹیکس، چار لاکھ 46 ہزار 668 روپے سے پانچ لاکھ 83 ہزار 333 روپے تک آمدنی پر 81 ہزار 333 روپے کے علاوہ اضافی رقم پر 32 فیصد ٹیکس جبکہ پانچ لاکھ 83 ہزار 333 روپے سے زائد ماہانہ آمدنی رکھنے والوں پر ایک لاکھ 18 ہزار 667 روپے کے علاوہ اضافی رقم پر 35 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
حکومت کے مطابق یہ مجوزہ ٹیکس اقدامات پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد مالی سال 2026-27 کے آغاز یعنی یکم جولائی 2026 سے نافذ کیے جائیں گے، جس کے بعد تنخواہ دار طبقے کی کٹوتیاں نئی شرحوں کے مطابق کی جائیں گی۔