کراچی میں ٹرانسپورٹرز رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے دوران حکومت اور متعلقہ محکموں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبات کی منظوری نہ ہونے کی صورت میں کاروبار بند کرنے اور پہیہ جام ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ای چالان سسٹم کے آغاز سے اب تک وہ کروڑوں روپے کے جرمانے بھر چکے ہیں، جبکہ گھروں پر چالان بروقت نہ پہنچنے کے باوجود جرمانوں کی رقم میں مسلسل اضافہ کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چالان کی زیادہ سے زیادہ رقم 2 ہزار روپے مقرر کی جائے اور اس کے لیے مختص کردہ وقت فوری ختم کیا جائے۔
رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ ایکسائز کے ریکارڈ روم سے ان کی گاڑیوں کی فائلیں غائب کردی گئی ہیں جن کی واپسی کے لیے دو سے تین لاکھ روپے رشوت مانگی جا رہی ہے، جبکہ ہر گاڑی مالک ٹیکس بھرنا چاہتا ہے لیکن ان پر تھرڈ پارٹی انشورنس پالیسی زبردستی نافذ کردی گئی ہے۔
پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کمشنر کراچی اور ڈی آئی جی ٹریفک کی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذ کے حکم پر آج تک عمل نہیں ہوسکا، جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس بیگار کے لیے پورے شہر سے زبردستی گاڑیاں پکڑ رہی ہے۔
مزید برآں، سندھ حکومت نے کرایہ نہ بڑھانے کی شرط پر سبسڈی کا جو وعدہ کیا تھا، وہ رقم بھی آج تک نہیں ملی۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان مسائل پر وزیراعلیٰ اور وزیر ٹرانسپورٹ سے ملاقات کی بارہا کوشش کی جو ناکام رہی، اب مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو احتجاج اور ہڑتال کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔