لاہور ہائیکورٹ میں مونس الہٰی کو اشتہاری قرار دینے اور ان کے اثاثے منجمد کرنے سے متعلق احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے لیے تشکیل دیا گیا دو رکنی بینچ تحلیل کردیا گیا۔
جسٹس محمد طارق ندیم اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل بنچ نے کیس کی ابتدائی سماعت کی، تاہم بعد ازاں جسٹس علی ضیاء باجوہ نے مزید سماعت سے معذرت کرلی، جس کے باعث بینچ تحلیل ہوگیا۔
عدالت نے کیس کسی دوسرے ڈویژن بنچ کے سامنے مقرر کرنے کی سفارش کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال کر دی ہے تاکہ نئی کاز لسٹ کے مطابق سماعت کا تعین کیا جاسکے۔
مونس الہٰی کی والدہ قیصرہ الہٰی نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مونس الہٰی کو اشتہاری قرار دینے اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو بھی درخواست میں شامل کیا گیا ہے۔