ٹریفک اقدامات کے باعث حادثات سے اموات میں 30 فیصد کمی آئی، ڈی آئی جی ٹریفک

image

کراچی: ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روڈ ڈسپلن اور ٹریفک کا نظام کسی بھی قوم کے رویے اور تہذیب کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال مارچ میں ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس کے بعد چھ ماہ کی انتھک محنت سے جدید سافٹ ویئر تیار کیا گیا اور عملے کو خصوصی تربیت دی گئی۔ اس سلسلے میں گزشتہ سال اکتوبر میں ای چالان کا جدید نظام متعارف کرایا گیا، جس کا بنیادی مقصد سڑکوں پر ٹریفک پولیس اور عوام کے درمیان براہ راست رابطے اور شہریوں کو روکنے کے عمل کو ختم کرنا تھا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ سال 447 مہلک حادثات ہوئے تھے، جبکہ رواں سال ان میں واضح کمی آئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف دفاتر میں بیٹھ کر بحث کرنے سے جانیں نہیں بچتیں، بلکہ عملی اقدامات سے ہر ماہ متعدد انسانی جانوں کو بچایا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسی عرصے میں 800 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے تھے، جبکہ اس سال ان میں 300 سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح بڑی گاڑیوں کے باعث ہونے والی اموات گزشتہ سال 155 تھیں، جو رواں سال کم ہو کر 75 رہ گئی ہیں۔

ڈی آئی جی ٹریفک کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے شہریوں کے رویے اور مزاج میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ ماضی میں سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا، لیکن اب ٹیکسی ڈرائیور بھی مسافر کو بیلٹ لگوائے بغیر گاڑی نہیں چلاتا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بچے بھی ٹریفک کے حوالے سے دوہرے رویے دیکھ کر پریشان ہوتے تھے۔ 70 کی دہائی میں کراچی کے ٹریفک کی مثالیں دی جاتی تھیں، لیکن گزشتہ چار دہائیوں میں مینجمنٹ کا نظام بالکل تباہ ہوچکا تھا۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک فلو یونٹ اور ٹریفک ڈرون یونٹ متعارف کرائے گئے ہیں، اور 70 فیصد عوام نے اس جدید نظام کو دل سے قبول کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں شہر میں مزید 2250 کیمرے نصب کیے جائیں گے، جبکہ اس وقت 1300 کیمروں کی مدد سے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے جس کے بہترین نتائج مل رہے ہیں۔ مختلف ٹریفک خلاف ورزیوں پر جرمانے کی رقوم الگ الگ ہیں، تاہم کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ حکومت نے قانون پاس کر کے یہ جرمانے لاگو کیے ہیں، جس کے تحت موٹر سائیکل کا کم از کم چالان 2500 روپے مقرر کیا گیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US