لاہور ہائیکورٹ نے حق مہر کی ادائیگی سے متعلق ایک اہم قانونی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حق مہر بیوی کا بنیادی اور قانونی حق ہے، جس کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے، جبکہ حق مہر کی مکمل ادائیگی تک بیوی کو شوہر سے علیحدہ رہنے کا اختیار حاصل ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے عرفان سرفراز کی آئینی درخواست پر 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواست خارج کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کسی آئینی یا قانونی بے ضابطگی کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نکاح کے بعد بیوی کی کفالت اور نان و نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر عائد ہوتی ہے، جبکہ حق مہر کی ادائیگی شوہر کی قانونی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ حق مہر کی عدم ادائیگی کی صورت میں بیوی علیحدہ رہائش اختیار کرنے کا حق رکھتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ شواہد کا جائزہ لینا فیملی کورٹ کا اختیار ہے اور ماتحت عدالت نے یہ اختیار قانون کے مطابق استعمال کیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے چار کنال زرعی زمین کے عوض چار لاکھ روپے ادا کیے تھے، تاہم وہ اس دعوے کے حق میں کوئی قابل قبول ثبوت یا دستاویز پیش نہ کرسکا۔
جسٹس مزمل اختر شبیر نے ریمارکس دیے کہ کوئی بھی سمجھدار شخص اتنی بڑی رقم کی ادائیگی بغیر رسید یا تحریری ثبوت کے تسلیم نہیں کر سکتا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے دو گواہوں کا حوالہ دیا مگر انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق فریقین کی شادی 2015 میں ہوئی تھی جبکہ خاتون نے 2016 میں حق مہر کے طور پر پانچ تولہ سونا، چار کنال زرعی زمین اور پانچ مرلہ مکان کے حصول کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا۔ اپیلٹ کورٹ نے شوہر کو چار کنال زرعی زمین، پانچ تولہ سونا اور جہیز کی مد میں تین لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پانچ مرلہ پلاٹ کی ادائیگی سے متعلق دونوں فریقین کے وکلا نے تصدیق کی، لہٰذا اس حد تک ماتحت عدالت کا فیصلہ درست قرار دیا گیا۔