تعمیراتی شعبے کے ریلیف پیکج پر آئی ایم ایف کا اعتراض، پراپرٹی ٹیکس میں کمی کی تجویز مسترد

image

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت کی جانب سے تعمیراتی اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے متعارف کرائے گئے ریلیف پیکج پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس میں کمی کی تجویز مسترد کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 2026-27 میں فائلرز کے لیے پراپرٹی فروخت کرنے پر عائد ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ حکومتی مؤقف تھا کہ اس اقدام سے تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔

تاہم ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے ٹیکس شرح میں کمی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس تجویز کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔ حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں پراپرٹی اور تعمیراتی شعبے کے لیے تقریباً 115 ارب روپے کے مراعاتی پیکج کا اعلان کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے اعتراضات کے بعد حکومت کو اپنے مجوزہ اقدامات پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے، جس سے تعمیراتی شعبے میں متوقع تیزی، روزگار کے نئے مواقع اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کے حکومتی منصوبوں کو دھچکا پہنچنے کا امکان ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق تعمیراتی شعبہ ملکی معیشت کے اہم شعبوں میں شمار ہوتا ہے اور اس سے وابستہ پالیسی فیصلوں کے اثرات روزگار، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US