بجٹ 2026-27 ریلیف پر مبنی اور معاشی استحکام کا عکاس ہے، عطاء اللہ تارڑ

image

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر آن لائن بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ ماضی کے بجٹ سے مختلف، عوام دوست اور ریلیف پر مبنی ہے، جس میں تنخواہ دار طبقے، صنعتوں، برآمد کنندگان، نوجوانوں اور زرعی شعبے کے لیے متعدد سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کو جب اقتدار ملا تو ملکی معیشت شدید مشکلات کا شکار تھی، زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر تھے، مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ چکی تھی جبکہ شرح سود 22 فیصد سے زائد تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت، معاشی اصلاحات اور آئی ایم ایف پروگرام کے ذریعے ملک کو معاشی بحران سے نکالا گیا اور آج معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، فیس لیس اپریزل سسٹم اور ٹیکس وصولی کے نظام میں شفافیت کے باعث حکومت کو اضافی مالی گنجائش حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوا۔ ان کے مطابق صرف انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے ایک سال میں تقریباً 800 ارب روپے کی اضافی وصولی کی گئی جبکہ شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف دیا گیا ہے۔ 50 ہزار روپے ماہانہ آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا جبکہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح صرف ایک فیصد مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح دیگر آمدنی رکھنے والے طبقات کے لیے بھی ٹیکس شرحوں میں کمی کی گئی ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ہاؤسنگ سیکٹر کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ پانچ اور دس مرلے کے گھروں اور پلاٹوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس کم کیا گیا ہے جبکہ ”اپنا گھر پروگرام“ کے لیے 90 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 11 ارب روپے جاری بھی کیے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کے لیے ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے جبکہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کے تحت شرح سود 4 فیصد مقرر کی گئی ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مزید مسابقتی بن سکیں۔

وزیر اطلاعات کے مطابق نوجوانوں کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ زرعی اور کاروباری قرضوں سے ساڑھے پانچ لاکھ نوجوان مستفید ہوں گے۔ فنی تعلیم، اسپورٹس ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام، دانش اسکولز اور دانش یونیورسٹی جیسے منصوبوں کو بھی مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے زرعی مشینری کی درآمد پر تمام ڈیوٹیز ختم کر دی گئی ہیں جبکہ زرعی گریجویٹس اور ایگریکلچرل انوویشن پروگرامز کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کے لیے ٹیکس مراعات برقرار رکھی گئی ہیں اور فری لانسرز پر کوئی اضافی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی خدمات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور اس شعبے کی ترقی کے لیے مزید سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے تاجر تنظیموں سے مشاورت کے بعد ریٹیلرز کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرائی ہے، جس کے تحت ٹیکس نیٹ سے باہر تقریباً 36 لاکھ ریٹیلرز کو نظام میں شامل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، صنعت، برآمدی شعبے، نوجوانوں اور زراعت سمیت مختلف شعبوں کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جبکہ معاشی استحکام حکومت کی اجتماعی کاوشوں اور مسلسل اصلاحات کا نتیجہ ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US