وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے جس کے مثبت اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی سفارتی کاوشیں کامیاب ثابت ہو رہی ہیں جبکہ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے شفاف ہفتہ وار فارمولہ مرتب کرے گی۔
علی پرویز ملک کے مطابق نئے فارمولے کے تحت عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کی وجوہات سے مکمل آگاہی حاصل ہوگی، جبکہ قیمتوں کے تعین کے عمل کو مزید شفاف اور قابلِ فہم بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فارمولے کو تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود حکومت نے مؤثر اقدامات کے ذریعے ملک میں تیل کی سپلائی چین کو بلا تعطل برقرار رکھا اور اس دوران کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے تعاون پر تمام شراکت داروں اور عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر حکومت پاکستان توانائی سلامتی کی حکمت عملی کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہے اور آنے والے مہینوں میں قومی مفادات کے تحفظ اور توانائی کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔