دفاعی اخراجات اور عسکری استعداد سے متعلق حالیہ اعداد و شمار اور مبصرین کے تبصروں کے مطابق پاکستان نے محدود دفاعی بجٹ کے باوجود پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو منوایا ہے۔
عالمی تحقیقی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں بھارت دنیا کا پانچواں بڑا دفاعی اخراجات کرنے والا ملک رہا، جس کے دفاعی اخراجات 8.9 فیصد اضافے کے بعد 92.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی عرصے کے دوران پاکستان کے دفاعی اخراجات میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جو 11 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 11.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق 2026-27 کے لیے بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اسے تقریباً 80 ارب ڈالر (7.85 لاکھ کروڑ روپے) تک مختص کیا ہے، جبکہ پاکستان نے اسی مدت کے لیے دفاعی بجٹ کو نسبتاً محدود رکھتے ہوئے تقریباً 10.8 ارب ڈالر (3 ہزار ارب روپے) تک برقرار رکھا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں، دیکھ بھال (مینٹیننس) اور ضروری آپریشنل اخراجات پر صرف ہوتا ہے، جس کے باعث یہ مجموعی قومی معیشت کے استحکام میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جدید جنگی تقاضوں، ٹیکنالوجی اور انسدادِ دہشت گردی کے چیلنجز کے پیش نظر دفاعی صلاحیتوں میں بہتری کے لیے وسائل کا مؤثر استعمال اور تربیت کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق جنگی میدان میں کامیابی صرف بجٹ پر نہیں بلکہ حکمتِ عملی، تربیت اور قیادت کے معیار پر بھی منحصر ہوتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان سے متعلق دفاعی بجٹ کے حوالے سے اکثر مبالغہ آرائی یا گمراہ کن تاثر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ زمینی حقائق مختلف ہیں اور ملک محدود وسائل کے باوجود اپنی دفاعی ضروریات پوری کر رہا ہے۔