کراچی میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے اب صوبے میں بڑی ترقیاتی اسکیمیں متعارف کرانے کی ہدایت دی ہے اور چھوٹے منصوبوں کے بجائے بڑے منصوبوں پر توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ 2023 اور 2025 کے ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے کم از کم ماہانہ آمدن 43 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
مراد علی شاہ کے مطابق 26.2 ارب روپے کی گرانٹ ایس آئی یو ٹی کو دی جائے گی، جبکہ مقامی حکومتوں کے لیے 155 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال 2056 جاری ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی، تاہم اس بجٹ میں کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کی ہے کہ اب بڑے منصوبوں کی جانب بڑھا جائے، جس سے آئندہ دو برسوں میں صوبے کے حالات میں نمایاں بہتری آنے کی امید ہے۔
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں تبدیلی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی اسے آئین کے منافی سمجھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع اور قومی یکجہتی کے لیے تمام صوبوں نے وفاق سے تعاون کیا اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے گرانٹس فراہم کیں۔