سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کاٹن ایکسچینج کی تاریخی عمارت کی ملکیت کے تنازعے پر دائر 10 مختلف درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ایف آئی اے کا مقدمہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
جسٹس نثار احمد بھنبھرو کے تحریر کردہ فیصلے میں چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ اسلام آباد کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 90 روز کے اندر تمام فریقین کا مؤقف سن کر معاملے کی ازسرنو جانچ کریں۔
عدالت نے حتمی فیصلے تک کراچی کاٹن ایسوسی ایشن (کے سی اے) کو کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے اور اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم کرائے کی رقم ناظر سندھ ہائیکورٹ کے پاس جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔
یہ درخواستیں کے ایم سی، کراچی کاٹن ایسوسی ایشن اور دیگر نے جنوری 2026 میں عمارت کو غیر قانونی طور پر سیل کیے جانے کے خلاف دائر کی تھیں۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ زمین کے ایم سی کی ملکیت ہے اور اسے متروکہ وقف املاک قرار دینا درست نہیں، جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل شازیہ ہنجرہ کا کہنا تھا کہ تقسیمِ ہند کے وقت اراکین کی ہجرت کی وجہ سے یہ عمارت متروکہ املاک کے زمرے میں آتی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صرف 1963 کے ایک نوٹیفکیشن کی بنیاد پر کسی جائیداد کو متروکہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور چونکہ کاٹن ایسوسی ایشن کا مقصد فلاحی نہیں بلکہ تجارت کا فروغ ہے، اس لیے بادی النظر میں اسے متروکہ وقف املاک قرار دینے کے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
عدالت نے متاثرہ فریقین کو سنے بغیر بے دخلی کے نوٹسز کو منصفانہ ٹرائل کے منافی اور ایف آئی اے کے مقدمے کو اختیارات کا غلط استعمال قرار دیا۔